خطبات محمود (جلد 27) — Page 457
*1946 457 خطبات محمود ملانا۔سمجھنے کے لئے علم جغرافیہ کی بھی ضرورت ہے۔جغرافیہ کا پڑھنا بھی دین نہیں دنیا ہے۔قرآن کریم سمجھنے کے لئے علم ہیئت کا جاننا بھی ایک حد تک ضروری ہے۔اب علم ہیئت کا پڑھنا بھی دنیا ہے دین نہیں ہے۔اسی طرح قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے کچھ علم سیاست کی بھی ضرورت ہے۔سیاست کا جاننا بھی دین نہیں دنیا ہے۔قرآن کے سمجھنے کے لئے کچھ علم النفس کی بھی ضرورت ہے۔علم النفس کا جاننا بھی دین نہیں دنیا ہے۔اسی طرح کے بیسیوں بلکہ سینکڑوں علوم ہیں جن کا سیکھنا دنیوی رنگ رکھتا ہے لیکن قرآن کریم کے سمجھنے کے لئے ان کا جاننا ضروری ہے۔ان کے جاننے کے بغیر قرآن کریم کے معانی اور تفسیر میں غلطی کرنے کا اندیشہ ہے۔قرآن کریم کے پڑھنے کے لئے سب سے ضروری حروف ابجد کا جاننا اور ان کا آپس میں ہے۔ان حروف کا پڑھنا بھی دین نہیں دنیا ہے کیونکہ اگر حروف کے مخارج سے واقف نہیں تو تلاوت نہیں کر سکتا۔اگر ایک انسان قرآن کریم کے الفاظ اور کلمات پڑھنے پر قادر نہیں تو وہ ان کے معنوں پر بھی قادر نہیں ہو سکتا۔اگر ایک انسان صرف و نحو پر قادر نہیں تو وہ قرآن کریم کے صحیح معنوں پر بھی قادر نہیں ہو سکتا۔اور اگر وہ مندرجہ بالا علوم میں سے کسی سے بھی بے بہرہ ہے تو پھر وہ قرآن کریم کے معارف اور حقائق پر قادر نہیں ہو سکتا۔تو دنیوی علوم بھی دینی علوم کے لئے ایک حد تک ضروری ہیں۔ان کے بغیر دین مکمل نہیں ہو تا۔جب دین مکمل نہ ہوا تو آخرت مکمل نہ ہوئی۔پس جبکہ ایک جھوٹا صوفی یا ایک جھوٹا مولوی جو کہ دنیا کے ظاہری علوم سے اندھا ہے۔اگر اُس کے سامنے کوئی سچا مولوی اور سچا صوفی آجائے جس کی دونوں قسم کی آنکھیں موجود ہوں یعنی وہ دینی علوم کے علاوہ دنیوی علوم میں بھی دسترس رکھتا ہو تو ایسا شخص یقیناً اپنے حریفوں سے زیادہ اعلیٰ مقام پر ہو گا اور وہ حملہ کے لحاظ سے اُن سے زیادہ محفوظ ہو گا۔جب کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے انبیاء آتے ہیں۔ان کے ذریعہ دینی علوم کے علاوہ دنیوی علوم کی بھی ترقی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور دنیا دار لوگوں میں علوم کے پھیلانے میں ایک بہت بڑا فرق یہ ہوتا ہے کہ دنیا دار لوگ دنیوی علوم کو دینی علوم پر مقدم کر دیتے ہیں اور ان کی تمام تر توجہ دنیوی علوم کی طرف مرکوز ہو جاتی ہے، دینی علوم سے وہ اعراض کر لیتے ہیں۔