خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 456

*1946 456 (34) خطبات محمود جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا ہو تا ہے وہی زندگی پاتا ہے ) فرمودہ 20 ستمبر 1946ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔” مومن اور کافر میں بہت بڑا فرق ہونا چاہئے۔سچے مومن کو دوسروں سے یہ امتیاز ہوتا ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر چلتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ دنیوی لحاظ سے بعض غیر مومن بھی بڑے ہوشیار ہوتے ہیں اور دنیا کے کاموں میں بہت آگے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔لیکن ان کی نظر کامل نہیں ہوتی کیونکہ وہ روحانی علم سے محروم ہوتے ہیں۔علم تعبیر رویا میں آنکھ کے نہ ہونے سے مراد علم کا نہ ہونا ہے۔اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ اس کی دائیں آنکھ خراب ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی دینی حالت خراب ہے۔اور اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس کی بائیں آنکھ خراب ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس کی دنیوی حالت خراب ہے۔ان دونوں پہلوؤں میں سے دنیا کے لحاظ سے دنیوی پہلو پہلے ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ہے کہ ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ - 1 یہاں دنیا کو پہلے رکھا ہے اور دین کو بعد میں۔دین کو اِس لئے بعد میں رکھا کہ دنیا دین کے لئے بطور سیڑھی ہے۔سیڑھی پر چڑھنے کے بعد ہی ہم منزلِ مقصود تک پہنچ سکتے ہیں۔بہت سے دنیوی علوم ہیں جو دینی علوم کے جاننے کے لئے ضروری ہیں۔قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے عربی زبان سے واقفیت کی ضرورت ہے۔اب عربی پڑھنا دین نہیں دنیا ہے۔پھر قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے صرف و نحو کی ضرورت ہے۔صرف و نحو کا پڑھنا بھی دنیا ہے دین نہیں ہے۔پھر قرآن کریم کو