خطبات محمود (جلد 27) — Page 437
خطبات محمود 437 *1946 اگر مکہ مدینہ کے رہنے والے لوگ ایسا کرتے ہیں تو ہم پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔اِس سے زیادہ تکلیف دہ نظارہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ منی کے مقام پر قربانی کے دن میں نے چھ بکرے ذبح کروائے۔ایک بکرا رسول کریم صلی ال ملک کی طرف سے ، ایک بکرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے، ایک حضرت خلیفہ اول کی طرف سے، ایک حضرت والدہ صاحبہ کی طرف سے ، ایک اپنی بیوی کی طرف سے ، ایک جماعت کی طرف سے اور دو تین بکرے میر صاحب اور دوسرے ساتھیوں نے ذبح کروائے۔لیکن وہاں حالت یہ تھی کہ قصاب چُھری پھیر کر ابھی ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا کہ بکر ا غائب ہو جاتا تھا۔جب ایک دو بکرے اس طرح غائب ہو گئے تو میں نے قصاب سے پوچھا کہ بکراجو ذبح کیا گیا تھا وہ کہاں ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ وہ تو یہ لوگ اٹھا کر لے گئے ہیں اور اسی طرح وہ تمام بکرے ٹوٹ مار کر کے اُٹھالے جائیں گے۔یہاں کوئی شخص اگر بکر ابچانا چاہے تو لڑ کر ہی بچا سکتا ہے۔ایک اور واقعہ اسی قسم کا عین خانہ کعبہ میں میرے ساتھ ہوا۔خانہ کعبہ میں طواف کرتے ہوئے ہر بار حجر اسود کو بوسہ دینا ضروری ہوتا ہے۔چونکہ حاجیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس ہجوم کی وجہ سے حجر اسود کو بوسہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔چھوٹی سی جگہ ہے۔سة لوگ قطاروں کی صورت میں چلتے ہیں۔اس تکلیف کو مد نظر رکھتے ہوئے رسول کریم صلی الیکم نے یہ اجازت دے دی کہ اگر انسان اس طرف سے گزرتے ہوئے حجر اسود کی طرف ہاتھ یا سوٹی کا اشارہ کر کے چوم لے تو وہ بھی حجر اسود کو بوسہ دینے کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔لیکن میں نے دل میں یہ پختہ ارادہ کیا ہو ا تھا کہ جس طرح بھی ہو۔خواہ کتنی ہی دیر لگ جائے۔میں ہر دفعہ حجر اسود کو بوسہ دوں گا۔ایک دفعہ مجھے حجر اسود تک پہنچتے پہنچتے ایک گھنٹہ لگ گیا۔ہجوم بہت تھا اور بڑی مشکل سے آہستہ آہستہ میں حجر اسود تک پہنچا۔میں حجر اسود کو چومنے لگا ہی تھا کہ مجھے پیچھے سے آواز آئی یا شیخ! حرم !! کہ بھائی ایک طرف ہونا، عور تیں حجر اسود کو چومنا چاہتی ہیں۔میں اس خیال سے کہ عورتیں پہلے چوم لیں ایک طرف ہو گیا۔لیکن میں نے دیکھا کہ وہاں عورت تو کوئی نہ تھی بلکہ کچھ عرب لمبے لمبے نوجوان ہنستے اور مسکراتے ہوئے آگے بڑھے اور حجر اسود کو بوسہ دینے لگے۔گویا وہ اس بات پر بہت خوش ہو رہے تھے کہ ہم نے دھوکا دے کر