خطبات محمود (جلد 27) — Page 438
*1946 438 خطبات محمود حجر اسود کو پہلے چوم لیا ہے۔اور یہ عین خانہ کعبہ کا واقعہ ہے جو کہ خشیت اللہ پیدا کرنے کے لئے انتہائی مقام ہے۔اس کے علاوہ مکہ مدینہ میں مسکرات کا استعمال کرنے والے لوگ بھی ہیں۔قتل و غارت کے واقعات بھی بکثرت ہوتے رہتے ہیں۔ان حالات کو دیکھ کر حاجی لوگ ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ جب مکہ اور مدینہ میں یہ کچھ ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔اگر یہ گناہ کی بات ہوتی تو مکہ اور مدینہ کے لوگ کیوں کرتے۔ایک خوبی جو مجھے مکہ کے لوگوں میں نظر آئی وہ بھی بیان کرنے کے قابل ہے۔وہ یہ کہ مکہ کے لوگ نمازوں کے بہت پابند ہیں اور خانہ کعبہ کو آباد رکھتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ اپنی اس خوبی کی وجہ سے خدا کے عذاب سے بچے ہوئے ہیں۔مکہ سے باہر نماز نہیں ہے۔قاہرہ میں جو جامع مسجد ہے اس میں لاکھ آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں۔وہ مسجد دہلی کی جامع مسجد سے کئی گنا بڑی ہے۔وہاں میں نے دیکھا کہ اس مسجد میں کل سات آدمی نماز پڑھ رہے تھے یعنی ایک امام اور چھ مقتدی۔اور امام مسجد بجائے اصل محراب میں کھڑا ہونے کے ایک کو نہ میں نماز پڑھا رہا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ آپ اصل محراب میں کیوں کھڑے نہیں ہوئے ؟ اس نے کہا کہ مجھے شرم محسوس ہوتی ہے کہ اگر کوئی عیسائی مسجد دیکھنے کے لئے آئے تو وہ کیا خیال کرے گا۔اس لئے میں اصل محراب میں کھڑا نہیں ہوتا تا کہ اگر کوئی دیکھے بھی تو وہ یہ سمجھے کہ اصل جماعت تو ہو چکی ہے اور یہ لوگ اتفاقی طور پر پیچھے رہ گئے تھے اور اب نماز ادا کر رہے ہیں۔میں نے اسے کہا کہ آپ لوگوں کو نماز کے لئے تحریک کیوں نہیں کرتے ؟ اس نے جواب دیا کہ کیا کروں؟ بہت کہا ہے مگر وہ آتے نہیں ہیں۔ان کے اسلام کا تمہیں اس سے بھی اندازہ ہو جائے گا کہ مسقط کا مفتی میرے ساتھ جہاز میں سوار تھا۔جب ہم قاہرہ میں اترے تو اس نے مجھے پتہ بتایا کہ فلاں ہوٹل میں مجھے ملنا۔جب میں اسے ملنے کے لئے ہوٹل میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ اور قاہرہ کا مفتی بیٹھے ہوئے جوا کھیل رہے تھے۔میرے وہاں پہنچنے پر مسقط کا مفتی تو جوا کھیلنے سے رُک گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ میں مذہبی آدمی ہوں۔لیکن قاہرہ کا مفتی چونکہ مجھے نہیں جانتا تھا اِس لئے وہ اُسے مجبور کرتا کہ کھیلو بھی، کھیل چھوڑ کر کیوں بیٹھ گئے ہو، کھیل خراب ہو رہی ہے۔لیکن مسقط کا مفتی مجھ سے