خطبات محمود (جلد 27) — Page 413
*1946 413 خطبات محمود کچھ معلوم نہیں کہ قرآن کریم کیوں سچا ہے حالانکہ ان میں سے کئی ایسے ہوں گے جو رسول کریم صلی علیکم کی محبت میں جان تک دینے سے دریغ نہ کریں گے۔لیکن ان کو یہ معلوم نہیں ہو تا کہ آپ کی سچائی کی دلیل کیا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے عادت کو پہلے اور غور و فکر کو پیچھے کر دیا ہے۔لیکن مومن کی نگاہ ایسی نہیں ہوتی کہ وہ فکر کو عادت کے تابع کر دے۔اب رمضان ختم ہو رہا ہے جتنے دن باقی ہیں ان میں بہت دعائیں کرو۔اور اگر پہلے کوئی شستی تھی تو اسے ترک کر دو۔لیکن یادر کھو کہ دعا بھی بعض لوگ عادت کے طور پر کرتے ہیں اور اس بات کو نہیں سوچتے کہ ہماری ضرورت کیا ہے۔جس چیز کی ہمیں ضرورت ہے ہم اللہ تعالیٰ سے وہ مانگیں۔بعض کا ہاتھ مالی لحاظ سے تنگ ہوتا ہے، بعض میں اخلاقی کمزوریاں ہوتی ہیں، بعض کی علمی قابلیت کم ہوتی ہے ، بعض کی صحت خراب ہوتی ہے۔اسی طرح ہر ایک کی ضرورتیں مختلف ہوتی ہیں۔جب انسان دعا کرنے سے پہلے سوچے گا کہ مجھے کیا دعا مانگنی چاہئے تو اسے اپنی تمام کمزوریوں کا علم ہو جائے گا۔اور جب اسے اپنی کمزوریوں کا علم ہو جائے گا تو یقینی بات ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور بہت رقت اور درد کے ساتھ دعا کرے گا۔اور دوسرے خود بھی کوشش کرے گا کہ یہ کمزوریاں مجھ میں نہ رہیں اور ان کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جائے گا۔اگر اس طرح سوچ سمجھ کر دعا کی جائے تو اس کا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو جلدی قبول فرمائے گا۔اور دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ اس کے نفس کو اپنی ضرورتوں کے معلوم کرنے کی عادت پڑے گی۔اصل میں دعا نفس کا محاسبہ ہے بشر طیکہ کوئی سچے طور پر دعامانگے۔لیکن عام طور پر لوگوں نے بعض فقرات یاد کئے ہوتے ہیں۔ہر دعا کے وقت وہی فقرے دہرا دیتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے عام طور پر لوگ دعا کے وقت یہ فقرہ بہت کہتے ہیں۔اے خدا! تو ہماری دنیا بھی درست کر دے اور دین بھی درست کر دے۔دنیا کی درستی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو تنگدستی سے بچالے اور ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اندر مال بھر اپڑا ہوتا ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ دنیا تو میرے پاس موجود ہے مجھے اس کے مانگنے کی کیا ضرورت ہے۔ایسے شخص کی دنیا کی درستی تو یہ ہے کہ اس کے پاس سے وہ مال خدا کی راہ میں خرچ ہو اور اس کے لئے ثواب اور نیکی کا