خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 385

*1946 385 خطبات محمود تبھی تو وہ رسول کریم لی لی نام کے فرمان پر جمع شدہ روپیہ گھر سے اٹھالائے۔اگر آپ کے پاس ہوتا ہی کچھ نہ تو آپ لاتے کہاں سے۔پس اسلام یہ نہیں کہتا کہ روپیہ جمع نہ کرو لیکن وہ ساتھ ہی یہ بھی حکم دیتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مالی قربانی کا مطالبہ کیا جائے تو بلا دریغ اور بلا چون و چرا اس روپے کو خد اتعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کی ترقی کے دن قریب سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں اور جماعت کی ترقی ہمارے لئے قربانیوں کے مطالبہ کو زیادہ سخت کرتی جارہی ہے۔جماعت کو جو عظمت اور جو عزت حاصل ہوئی ہے یا جو عزت اور عظمت حاصل ہو گی وہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں ہے۔ہماری کوششوں اور قربانیوں سے نہیں ہوئی۔باوجود اس کے کہ ہم لوگ قربانیوں میں کمزور ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن بدن ہماری جماعت کی عظمت بڑھتی جاتی ہے اور اب کئی ملک ایسے ہیں جو سیاسی طور پر ہماری جماعت سے خطرہ محسوس کرنے لگے ہیں اور اپنے ملکوں میں احمدیوں کو داخلے کی اجازت نہیں دیتے۔چنانچہ مصر میں اب ہمارے کسی مبلغ کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔شام کی جماعت نے کوشش کی کہ وہاں جماعت کو تسلیم کیا جائے تو شامی گور نمنٹ نے اس سے انکار کر دیا ہے۔گو ظاہر طور پر تعصب کا اظہار نہیں کیا کیونکہ وہ آزاد حکومت ہے اور آزاد حکومتیں یہ ظاہر نہیں کرتیں کہ وہ مذہبی تعصب کے نقطہ نگاہ سے روک رہی ہیں بلکہ کئی قسم کے بہانے تراش لیتی ہیں کہ پولیس کی رپورٹ ٹھیک نہیں ہے یا ایسا ہی کوئی اور بہانہ بنادیا۔ایک اور ملک میں ہم اپنا مبلغ بھیجنے کے لئے پاسپورٹ کی کوشش کر رہے تھے مگر وہاں کی گورنمنٹ نے جواب دے دیا ہے کہ یہاں کے مسلمان آپ کی جماعت کا داخلہ پسند نہیں کرتے اور چونکہ آپ کے مبلغ کے یہاں آنے سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوتے ہیں اس لئے آپ کو داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔کیا عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کا ملک اور اس میں مسلمان کے داخلہ سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوتے ہیں۔حالانکہ اس ملک میں سینکڑوں عیسائی مشنری داخل ہو چکے ہیں۔ان کے داخلہ سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل نہیں ہوتے۔اصل بات یہ ہے کہ گورنمنٹ جانتی ہے کہ احمدی مبلغ عیسائیت کا مقابلہ کرے گا اور اس سے عیسائیت کو نقصان پہنچے گا اس لئے بہتر ہے کہ اسے داخلہ کی اجازت ہی نہ