خطبات محمود (جلد 27) — Page 334
*1946 334 خطبات محمود اتنا خو بصورت نظر نہیں آتا جتنا وہ اس وقت خوبصورت نظر آتا ہے جب اس کے پھول گلدستہ میں لگے ہوئے ہوں۔پس ایک قسم کی خوبصورتی پیدا کرنے کی طاقت اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھی دی ہے اور ہر چیز جو انسان کے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہے اس کے اندر وہ ایک مزید خوبصورتی پیدا کر دیتا ہے۔جتنے پیوندی درخت ہیں یہ سب انسان کی خوبصورتی پیدا کرنے کی طاقت کا نتیجہ ہیں۔آم، آڑو، سیب اور مختلف قسم کے پھل سب کے سب اپنی ذات میں اچھی چیز ہیں۔لیکن انسان ان کو آپس میں پیوند لگا کر اُن کی نئی نئی شکلیں بنا دیتا ہے۔جس طرح انسان آموں میں، انگوروں میں، سیب میں ، ناشپاتی میں ، آڑوؤں میں، آلوچوں اور دوسرے پھلوں میں تغییر و تبدل کر سکتا ہے اسی طرح انسان اپنی قوتوں اور اپنی طاقتوں میں بھی تغیر و تبدل کر سکتا ہے اور اپنے ذہن کو فردی اور قومی بنا سکتا ہے۔یہی چیزیں ہیں جن سے قو میں جیتی ہیں۔کوئی قوم صرف اپنے مال اور اپنے سامان کی وجہ سے نہیں جیت سکتی۔دیکھو عام طور پر مالدار لوگوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں اور ہر وقت انہیں چوری کا خدشہ لگا رہتا ہے۔لیکن مغربی قوموں میں چونکہ قومی ذہنیت پیدا ہو چکی ہے اس لئے انہوں نے بنک بنائے اور اس روپے سے سائنس اور انڈسٹری کے سامان خریدے اور ان سے ایجادیں کر کے اور زیادہ روپے کمانے کے ذرائع نکالے اور کمپنیاں بنا کر تجارت کو اتنی وسعت دی کہ ایشیائی لوگ ان کے سامنے کھڑے بھی نہیں ہو سکتے۔ان کی تجارت کی وسعت کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہیں اور فردی مفاد کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔مسلمانوں کے تنزیل کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ انفرادی طور پر فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسرے بھائیوں کے مفاد کا خیال نہیں رکھتے۔وہ قومی مفاد کے نام سے نا آشنا ہیں۔ہماری جماعت کو اس بات کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے کہ اس میں قومی ذہنیت پیدا ہو جائے کیونکہ ہماری جماعت ایک انتظامی جماعت ہے اور وہ جماعتی طور پر ہی ترقی کر سکتی ہے۔فردی طور پر ساری دنیا تو کیا ہم ایک ملک میں بھی اپنا اثر اور نفوذ قائم نہیں کر سکتے۔ایک ملک تو کیا صرف پنجاب میں بھی اپنا اثر و نفوذ قائم نہیں کر سکتے۔پنجاب تو کیا صرف گورداسپور میں بھی