خطبات محمود (جلد 27) — Page 335
*1946 335 خطبات محمود اپنا اثر و نفوذ قائم نہیں کر سکتے۔گورداسپور تو کیا صرف قادیان میں بھی اپنا اثر و نفوذ قائم نہیں کر سکتے۔اگر ہمارا اثر و نفوذ کوئی چیز قائم کر سکتی ہے تو وہ ملتی جذبہ ہے۔اگر ہمارے اندر ملی جذبہ پیدا ہو جائے تو ہم یقیناً ساری دنیا پر غالب آ سکتے ہیں۔ملی جذبہ کی مثال ایک دریا کی طرح ہے اور انفرادی جذبہ کی مثال برسات کے پانی کی سی ہے۔جب دریا بہتا ہے تو ہر چیز جو اس کے رستہ میں آتی ہے تو اُسے ساتھ بہا لے جاتا ہے اور انفرادی جذ بہ خواہ کتنا ہی زبر دست ہو وہ برساتی پانی کی مانند ہوتا ہے۔برسات کا پانی بہتا ہے اور مختلف اطراف میں پھیل جاتا ہے اور اُس میں وہ زور نہیں ہو تاجو دریا کے بہاؤ میں ہوتا ہے۔کیونکہ دریا نے اپنا ایک راستہ مقرر کر لیا ہوتا ہے لیکن برسات کے پانی کے لئے کوئی خاص رستہ مقرر نہیں ہوتا اس لئے وہ ادھر اُدھر پھیل جاتا ہے اور زیادہ دور نہیں جاسکتا۔لیکن دریا جب بہتا ہے تو ارد گرد کی چھوٹی چھوٹی ندیاں آکر اس میں شامل ہو جاتی ہیں اور اس کی طاقت کو بڑھا دیتی ہیں اور سمندر تک پہنچ جاتا ہے۔یہی حال مجموعی ذہانت کا ہوتا ہے۔پس ہماری جماعت کو اپنی ذہنیت ملی رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ملی اور قومی ذہنیت کے مواقع ہر انسان کو پیش آتے رہتے ہیں۔مثلاً اگر دو نوجوان ایک کمرے میں رہتے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں، ایک دوسرے کے لئے آرام کا موجب بنتے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان میں ملی ذہانت پائی جاتی ہے۔لیکن اگر وہ لڑتے جھگڑتے ہیں اور بجائے ایک دوسرے سے تعاون کرنے کے عدم تعاون کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو ہم کہیں گے کہ وہ ملی ذہنیت سے عاری ہیں۔اسی رنگ میں ہم بڑے اجتماع اور بڑی تنظیم کے متعلق اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آیا اُن قوموں میں ملی ذہنیت اور ملی جذبہ پایا جاتا ہے یا نہیں ایسے لوگ جو ملی ذہنیت سے خالی ہوں خواہ وہ کتنے ہی ذہین اور قابل ہوں وہ قوم کے لئے عضو معطل کی طرح ہیں اور جماعت کے لئے زیادہ پریشانی کا موجب ہوتے ہیں۔ان کی وہی حالت ہوتی ہے کہ اے روشنی !طبع تو بر من بلاشدی جب کسی قوم کے افراد کی ذہنیت تو بلند ہو جائے لیکن ان میں تعاون کی روح موجو د نہ ہو تو اس قوم میں سخت ٹکراؤ پیدا ہو جاتا ہے اور یہ ذہنیت کی بلندی ان کے لئے تباہی کا موجب ہو جاتی ہے۔ذہن اور جس کی تیزی بے شک اچھی چیز ہے لیکن اگر تعاون کی روح نہ بڑھے۔تو یہ جس کی