خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 307

*1946 307 22 خطبات محمود -_-_-_-_-_-_-___-___-_-_-_-_-__---------------------- ذرا ذرا سی بات پر خلع اور طلاق تک نوبت پہنچادینا نہایت بھیانک اور ناپسندیدہ طریق ہے (فرمودہ 21 جون 1946ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔انسانی زندگی کے اہم ارکان میں سے میاں بیوی کے اجزا ہوتے ہیں۔دنیوی زندگی کے لئے انسان کے لئے جو چیزیں لازمی ہیں اور جن کے ذریعہ انسان آرام اور سکینت حاصل کر سکتا ہے وہ میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔میاں بیوی کے تعلقات سے جو سکون اور آرام انسان کو ملتا ہے وہ اُسے کسی اور ذریعہ سے حاصل نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان وجو دوں کو ایک دوسرے کے لئے سکینت اور تسکین کا ذریعہ قرار دیا ہے۔اسی طرح بائبل میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کے لئے حوا پیدا کی تاکہ وہ آدم کے آرام اور سکینت کا موجب ہو۔یعنی حوا کے بغیر آدم کے لئے تسکین اور آرام کی صورت اور کوئی نہ تھی۔لیکن یہی دو وجو د جو ایک دوسرے کے لئے تسکین ، آرام اور راحت کا موجب ہیں کبھی کبھی انہیں دو وجودوں کو لڑائی اور جھگڑے کا موجب بنالیا جاتا ہے اور راحت اور سکون کی بجائے انسان کے لئے اس کا مد مقابل یعنی خاوند کے لئے بیوی اور بیوی کے لئے خاوند دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف دینے کا موجب بن جاتا ہے۔ہزاروں خاوند ایسے ہیں جو اپنی بیویوں کے لئے بد ترین عذاب ثابت ہوتے ہیں اور ہزاروں بیویاں ایسی ہیں جو اپنے خاوندوں کے لئے بد ترین عذاب ثابت ہوتی ہیں۔