خطبات محمود (جلد 27) — Page 297
*1946 297 خطبات محمود آ رہی ہیں۔مگر یہ خبریں ہمارے لئے کس طرح خوشی کا موجب ہو سکتی ہیں ؟ بے شک ایک نادان انسان ان خبروں کو پڑھتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔لیکن عقلمند انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب وہ ایسی خبریں سنتا ہے تو اس کا دل اپنی کمزور حالت کو دیکھ کر رنج سے بھر جاتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت بیرونی ممالک کے مشنوں کا موجودہ بوجھ بھی مشکل سے اٹھا رہی ہے۔پس نئے ممالک جو ہم سے مبلغ مانگ رہے ہیں ہم ان کا کیا علاج کر سکتے ہیں اور کونسا ذریعہ ہے جس سے ہم ان کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔یہ ایک ایسا تکلیف دہ نظارہ ہے کہ ہماری کیفیت بالکل وہی ہو رہی ہے جو ایک جنگ میں مسلمان سپاہیوں کی تھی۔ایک جنگ کا واقعہ ہے۔اس میں بعض مسلمان شدید زخمی ہوئے او روہ پیاس کی شدت کی وجہ سے زمین پر تڑپنے لگ گئے۔ایک صحابی جس کے پاس پانی کی چھا گل تھی اس نے جب بعض صحابہ کو میدان جنگ میں شدت پیاس کی حالت میں تڑپتے دیکھا تو وہ بے تاب ہو گیا۔اور پانی کی چھا گل لے کر ان میں سے ایک کے قریب گیا اور چھا گل اس صحابی کے آگے کی تاکہ وہ اس سے پانی پی سکے۔جب اس نے دیکھا کہ ایک مسلمان پانی کی چھاگل لئے میرے قریب کھڑا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں اس سے پانی پی کر اپنی پیاس بجھاؤں تو اس نے اپنے پہلو میں ایک دوسرے مسلمان زخمی کی طرف اشارہ کیا۔مطلب یہ تھا کہ اسے مجھ سے زیادہ پیاس ہے تم مجھے پانی نہ پلاؤ بلکہ میرے دوسرے ساتھی کی طرف چھا گل لے جاؤ اور اسے پانی پلاؤ۔یہ صحابی چھا گل لے کر اس دوسرے کے قریب پہنچا تو اس نے اپنے پہلو میں پڑے ہوئے ایک یسرے شخص کی طرف اشارہ کیا کہ وہ پانی کا مجھ سے بھی زیادہ محتاج ہے تم اس کے پاس پانی لے جاؤ اور مجھے مت پلاؤ۔وہ تیسرے کے پاس پہنچا تو اس نے چوتھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میر افلاں بھائی مجھ سے بھی زیادہ پانی کا محتاج ہے تم جاؤ اور اس کو پانی پلاؤ۔اس طرح شخص نے بجائے خود پانی پینے کے اپنے پہلو کی طرف اشارہ کر کے اسے دوسرے بھائی کی طرف بھیج دیا۔وہ دس بارہ آدمی تھے جو میدانِ جنگ میں زخمی پڑے تھے۔انہوں نے باری باری اسے اپنے سے پرے بھیجنا شروع کیا اور کہا کہ ہمارا دوسر ا سا تھی ہم سے زیادہ پانی کا محتاج ہے۔جب وہ آخری زخمی سپاہی کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکا تھا۔اور جب وہ پھر واپس کو ٹا تو اس نے