خطبات محمود (جلد 27) — Page 285
*1946 285 خطبات محمود چلتی ہے وہ اس کے کاموں کے ذمہ دار نہیں ہیں ؟ یقینا کوئی شخص ایسی غیر معقول بات تسلیم نہیں کر سکتا۔لیکن پھر بھی ہر جماعت میں کچھ کمزور لوگ ہوتے ہیں۔جب وہ دیکھتے ہیں کہ انجمن کے بعض اپنے آدمی سلسلہ کے کام نہیں کرتے تو اُن کو ٹھو کر لگ جاتی ہے اور وہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ جب انجمن والے یہ کام نہیں کرتے تو ہم کیوں کریں۔گو اُن کا یہ جواب ان کی بے ایمانی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ انجمن خدا نہیں۔اگر انجمن ساری کی ساری مر تذ ہو جائے، اگر انجمن ساری کی ساری گمراہ ہو جائے ، اگر انجمن ساری کی ساری بے دین ہو جائے تب بھی ہم کہیں گے کہ ہمیں اس کی کیا پروا ہو سکتی ہے۔ہم کہیں گے کہ جہاں دس شیطان پہلے موجود تھے وہاں ہیں شیطان اور پیدا ہو گئے ہیں۔بہر حال اگر ہمارا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے تو ہمیں انجمن کی کوئی پروا نہیں ہو سکتی۔مومن اکیلا اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سامنے ذمہ دار سمجھتا ہے۔ایک بڑھئی سلسلہ کے کاموں کا ویسا ہی ذمہ دار ہے جیسے صدر انجمن احمد یہ ایک ڈاکٹر سلسلہ کے کاموں کا ویسا ہی ذمہ دار ہے جیسے صدر انجمن احمد یہ اور ایک لوہار سلسلہ کے کاموں کا ویساہی ذمہ دار ہے جیسے صدر انجمن احمدیہ۔پس ہمیں اس کی تو پروا نہیں ہونی چاہئے کہ انجمن کیا کرتی ہے۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کمزور دل لوگ اس کو بہانہ بنا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب صدر انجمن احمد یہ فلاں کام نہیں کرتی تو ہم کیوں کریں۔اس قسم کے بیماروں کو بچانے کے لئے اگر صدر انجمن احمد یہ بعض آدمیوں میں یہ نقص دیکھتی ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم سلسلہ کے فلاں کام کے ذمہ دار نہیں تو اسے اپنے ان ساتھیوں کی دماغی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ دوسروں کے لئے کسی فتنہ کا موجب بن جائیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک سب لوگ برابر ہیں لیکن اس کے باوجود اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر ایک بڑا شخص برانمونہ دکھلائے گا تو اس کا بد اثر دوسروں پر بھی پڑے گا اور وہ بھی عمل میں سست ہو جائیں گے۔مثلاً نماز کے متعلق جس طرح ایک باپ خدا تعالیٰ کے سامنے ذمہ دار ہے اسی طرح ایک بیٹا خدا تعالیٰ کے سامنے ذمہ دار ہے۔لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر باپ نماز پڑھنے میں مست ہو گا تو بیٹا بھی لازمست ہو جائے گا۔یوں خدا تعالیٰ کے سامنے دونوں ذمہ دار ہیں۔باپ بھی ذمہ دار ہے اور بیٹا بھی ذمہ دار ہے۔ان دونوں میں کوئی فرق نہیں،