خطبات محمود (جلد 27) — Page 265
*1946 265 خطبات محمود ممالک میں اخراجات اس قدر زیادہ ہیں کہ ہمارے ملک کے اخراجات پر ان ممالک کے اخراجات کا قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا۔ہمارے اخراجات اور رنگ کے ہیں اور ان کے اخراجات اور رنگ کے۔گزشتہ دنوں انگلستان کی ایک خبر شائع ہوئی تھی۔جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان ممالک میں اخراجات کی کیا نوعیت ہے۔انگلستان امریکہ سے بہت سستا اور غریب ملک ہے۔مگر پچھلے دنوں انگلستان میں مزدوروں نے سٹرائیک کر دی اور سٹرائیک کی وجہ ان کا یہ مطالبہ تھا کہ ہماری مزدوری میں آٹھ شلنگ روزانہ کی زیادتی کی جائے۔یہاں اگر مزدوروں کو بتایا جائے کہ انہیں آٹھ روپیہ روزانہ مزدوری ملا کرے گی۔تو میں سمجھتا ہوں ان پر شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہو جائے اور دس فیصدی کے ہارٹ فیل ہو جائیں۔جنگ کے دنوں میں انہیں بارہ چودہ آنے مزدوری ملتی رہی ہے۔ورنہ اس سے پہلے انہیں چھ سات آنے ملا کرتے تھے۔آٹھ شلنگ کی روزانہ زیادتی ان کے ذہن میں بھی کہاں آسکتی ہے۔یہاں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی آٹھ روپیہ مہینہ کی آمد ہوتی ہے۔چونکہ قادیان میں غرباء کے لئے غلہ کا انتظام کیا جاتا ہے اور یہ ضروری ہوتا ہے کہ ہمیں ان کی آمد کا صحیح علم ہو تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ وہ امداد کے مستحق ہیں یا نہیں۔اس لئے جب ان کی آمد کا پتہ لگایا جاتا ہے تو کافی تعداد ایسے لوگوں کی نکلتی ہے جن کی آمد 9، 10، 12 اور 15 کے اندر اندر چکر لگارہی ہوتی ہے۔گویا ہمارے ملک میں ایک غریب خاندان کی جتنی ماہوار آمد ہوتی ہے وہاں اتنی رقم کا روزانہ تنخواہ کے طور پر نہیں، تنخواہ کی زیادتی کے طور پر مطالبہ کیا جاتا ہے اور زیادتی تنخواہ سے بہر حال کم ہوتی ہے۔کسی کی پچیس روپیہ تنخواہ ہو تو وہ یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ مجھے ساٹھ روپیہ تنخواہ دی جائے وہ یہ تو کہتا ہے کہ میری تنخواہ پچیس کی بجائے تیس روپے ماہوار کر دی جائے یا پچیس کی بجائے پینتیس یا چالیس کر دیئے جائیں مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے پچیس کی بجائے ساٹھ یا اتنی روپیہ تنخواہ دی جائے۔تو زیادتی کا مطالبہ ہمیشہ اصل تنخواہ سے کم ہوتا ہے۔پس جن کا مطالبہ یہ تھا کہ ہماری مزدوری میں آٹھ شلنگ روزانہ کی زیادتی کی جائے سمجھ لو کہ ان کی تنخواہ تو بارہ تیرہ شلنگ کے قریب روزانہ ہو گی۔