خطبات محمود (جلد 27) — Page 246
*1946 246 خطبات محمود اور زیادہ طبی عاد تا اختیار کر لیتی ہے یا اکثریت ڈرپوک ہوتی ہے اور اسے جو کچھ ملے اس پر وہ مطمئن نہیں ہوتی بلکہ ڈرتی ہے کہ نہ معلوم آئندہ کیا ہو جائے۔یا اس کے نتیجہ میں مجھے کسی وقت کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔اور یا پھر اکثریت ہوشیار ہوتی ہے اور وہ محض ڈرانے کے لئے تاکہ اقلیت کچھ اور حقوق نہ مانگنے لگ جائے، شور مچانے لگ جاتی ہے۔ان وجوہ کے سوا اکثریت کے شور مچانے کی اور کوئی وجہ نہیں ہوتی۔پس جہاں تک کانگرس کے لیڈروں کا سوال ہے میں حیران ہوں کہ وہ کس خیال میں ہیں۔اگر وہ ناتجربہ کار ہوتے تو میں سمجھتا کہ وہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں مگر وہ نا تجربہ کار نہیں بلکہ اچھے سیاستدان ہیں۔اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ وہ اتنی موٹی بات بھی نہ سمجھ سکیں کہ ہمارے حقوق بہر حال محفوظ ہیں۔لیکن جہاں تک مسلم لیگ کا سوال ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلم لیگ کی حیثیت اس فیصلہ کے مطابق بہت کچھ گر گئی ہے کیونکہ جن باتوں کا انہوں نے مطالبہ کیا تھا وہ باتیں ان کو حاصل نہیں ہوئیں۔اگر وہ اُن کا کم سے کم آخری مطالبہ تھا تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ مسلم لیگ کو اس کا کم سے کم مطالبہ حاصل نہیں ہوا۔اور اگر وہ ان کا زیادہ سے زیادہ مطالبہ تھا تو پھر بے شک مسلم لیگ کے لئے یہ سوچنے کا موقع ہے کہ اس کے مطالبات اور موجودہ فیصلہ میں کتنی کمی ہے۔اور آیا اس کمی کے ہوتے ہوئے وہ اس فیصلہ کو قبول کر سکتی ہے یا نہیں۔جہاں تک میں نے اس سکیم پر غور کیا ہے میرے نزدیک اس میں یقیناً ایسی خامیاں ہیں جن خامیوں کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق پوری طرح محفوظ نہیں رہ سکتے۔یا یہ کہو کہ اس وقت ملک کی جیسی فضا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف جو خیالات لوگوں کے دلوں میں پائے جاتے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق پوری طرح محفوظ نہیں ہو سکتے۔ور نہ اگر آپس میں بھائی چارہ ہو ، ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے محبت اور پیار رکھتے ہوں اور دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ اور دوسرے کے سکھ کو اپنا سکھ سمجھتے ہوں تو پھر یہ سوال ہی نہیں رہتا کہ مسلمانوں کو پچیس فیصدی نمائندگی کیوں ملی ہے۔آدھی نمائندگی کیوں نہیں ملی۔بلکہ میں کہتا ہوں اگر اس قسم کی محبت پیدا ہو جائے اور پھر مسلمانوں کو کچھ بھی ملے تب بھی کوئی حرج نہیں۔اگر آپس میں رواداری پائی جاتی ہو، ایک دوسرے سے محبت اور پیار قائم ہو ہو،