خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 230

*1946 230 خطبات محمود جس طرح اُنگلی کو اگر کوئی تکلیف پہنچے تو تمام جسم کو اس سے تکلیف ہوتی ہے اسی طرح مسلمانوں میں سے کسی کو تکلیف پہنچے تو ضرور ہے کہ باقیوں کو بھی تکلیف پہنچے۔2 پچھلے سال گندم کا بھاؤ آٹھ نو روپے من کے درمیان تھا۔اب نو اور گیارہ کے در میان ہے۔قادیان میں ساڑھے دس روپے من کے حساب سے بھی گندم کی ہے اور گیہوں کی اتنی قیمت ادا کر کے ہر ایک کہاں گندم خرید سکتا ہے۔ہندوستان میں چپڑاسی کی تنخواہ آٹھ روپے ہوتی تھی۔آجکل ہیں روپے ہے۔نو دس روپے مہنگائی الاؤنس مل جاتا ہے۔اگر ہر ایک کے گھر میں اوسطاً دو بچے ہوں تو ایک گھر کے افراد کی تعداد چار بن جاتی ہے۔اگر ایک فرد ماہوار پندره سیر گندم کھائے تو ایک ماہ میں ساٹھ سیر یعنی پندرہ روپے کی گندم خرچ ہو گی۔اس کے علاوہ دوسری ضروریات بھی ہوتی ہیں۔دال، سالن ، کپڑے وغیرہ۔پھر بعض دفعہ بیماری بھی آجاتی ہے۔اور ان پر باقی رقم خرچ ہو جاتی ہے۔ایسے حالات میں غرباء پر جو کچھ گزرتی ہے وہ یقیناً ایک مصیبت ہوتی ہے۔مگر ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کیا ہماری جماعت اس مصیبت سے آزاد ہے؟ اگر ہے تو پھر بے شک ہماری جماعت آرام سے سوئے۔لیکن اگر حقیقتاً ہماری جماعت غریبوں کی ہے اور اگر اس وقت ہمارے کچھ بھائی فاقہ کشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور دوسروں کے دلوں میں درد پیدا نہ ہو تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اسلام پر عمل کیا ہے۔پچھلے سالوں میں ہم غرباء کو پانچ پانچ ماہ کا غلہ دیتے رہے ہیں اور اس سے قیمت نصف پر آجاتی ہے۔اگر چہ یہ مدد بہت کم ہے لیکن اس طرح ہم ان کے بوجھ کو ایک حد تک کم کر دیتے ہیں۔جماعت کے دوستوں نے ہمیشہ اس تحریک میں حصہ لیا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے پورے جوش سے حصہ نہیں لیا حالانکہ یہ ایمان کی ادنی علامت ہے کہ غرباء کا خیال رکھا جائے۔اسی طرح قادیان کے افراد نے بھی پورے طور پر قربانی نہیں کی۔حقیقت میں مومن وہ ہوتا ہے جو اپنے مومن بھائی کا مصیبت کے وقت حصہ دار ہو۔احادیث میں آتا ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ یکم جہاد کے لئے تشریف لے گئے تو رستہ میں کھانے کی کمی واقع ہو گئی۔آپ نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہے وہ لے آئے۔چنانچہ آپ نے چیزیں جمع کر لیں اور ان سب کو ملا کر بطور راشن سب میں برابر تقسیم کرنا شروع فرما دیا۔3