خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 12

*1946 12 خطبات محمود ہیں۔سکول والے کیوں ان کی نگرانی نہیں کرتے اور کیوں ان کو محنت سے کام کرنے کی تاکید نہیں کرتے ؟ والدین تو ان اوقات میں اپنے بچوں کی نگرانی نہیں کر سکتے۔پس میرے نزدیک بہت حد تک اس معاملہ میں سکول پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس نے کیوں نگرانی نہیں کی۔بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ننانوے فیصدی ذمہ داری اس کی اساتذہ پر ہے۔کیا وجہ ہے کہ ہمارے سکول کے طالب علم نکمے ہوتے ہیں لیکن آریہ سکولوں کے طالب علم ہوشیار ہوتے ہیں۔کیا احمدی گھر میں پیدا ہونے کی وجہ سے نَعُوذُ بِاللہ ان پر نحوست چھا جاتی ہے ؟ کیا احمدی گھر میں پیدا ہونے کی وجہ سے ان کا دماغ خراب ہو جاتا ہے ؟ میں اس بات کو کبھی مان نہیں سکتا کہ بچوں کے دماغ اچھے نہیں بلکہ میں کہتا ہوں تمہاری دس سال کی پڑھائی نے اس کا دماغ خراب کر دیا ہے۔جب وہ لڑکا قادیان میں رہتا ہے، اس کے والدین بھی قادیان میں رہتے ہیں تو جب وہ لڑکا سکول سے غیر حاضر ہوتا ہے استاد کیوں سورہتے ہیں ؟ کیوں اس کے والدین کو نہیں کہتے کہ تمہارے لڑکے میں فلاں خرابی ہے اس کو دور کرو۔کیوں استادوں پر افیون کھانے والے کی سی حالت طاری رہتی ہے؟ اور کیوں نہیں وہ پانچویں چھٹے دن بولتے کہ ان لڑکوں میں یہ خرابی ہے ؟ اور کیوں مقامی لڑکوں کے والدین کے سامنے اس بات کا ذکر نہیں کرتے ؟ اور جو لڑ کے بورڈر ہیں ان کے تو وہ خود ذمہ دار ہیں۔ان کے والدین نے انہیں ان کے سپر د کیا ہے وہ ان کی تعلیم اور ان کے اخلاق کے ذمہ دار ہیں۔پس بورڈروں کے لئے ان کے پاس کیا بہانہ ہے؟ کیونکہ وہ تو چوبیس گھنٹے انہی کے پاس رہتے ہیں۔ایسے بہانے کرنے سے تو بہتر ہے کہ زمین پھٹ جائے اور یہ بہانے کرنے والے اس میں سما جائیں۔اگر بے حیائی سے کام لیا جائے تو اور بات ہے لیکن اگر یہ استاد لڑکوں کی نگرانی کرنا چاہتے تو کیا وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے ؟ اور جو لڑ کے باوجود ان کے سمجھانے کے اپنی اصلاح نہ کرتے وہ ان کے والدین سے کہتے اگر وہ بھی اصلاح کے لئے کوشش نہ کرتے تو مقامی انجمن سے کہتے۔بار بار جلسے کرتے اور ان کے والدین کو توجہ دلاتے۔ہٹلر نے دس سال میں اپنی قوم کے خیالات بدل ڈالے اور ان میں ایک ایسی روح بھر دی کہ وہ اس کے لئے جان پر کھیلنے کو تیار ہو گئے۔ہر ایک بات کا انتظام خلیفہ یا انجمن کرے یہ نہیں ہو سکتا۔آخر یہ اساتذہ کس مرض کی دوا ہیں؟ ان کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کہتے ہیں کہ