خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 11

*1946 11 خطبات محمود ہوتے ہیں جو ان سکولوں سے جاتے ہیں۔جہاں ان کا نتیجہ ستر یا پچھتر فیصدی ہوتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ طالب علم کا لج میں جا کر کند ذہن ہو جاتے ہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ معیارِ تعلیم بلند ہو جاتا ہے۔پس جو لڑکا پہلے ہی سکول میں تھرڈ ڈویژن میں پاس ہونے کا عادی ہو وہ کالج میں جا کر کیا ترقی حاصل کر سکتا ہے۔ایف۔اے اور بی۔اے میں تو پھر بھی بعض لڑکے فرسٹ ڈویژن حاصل کرتے ہیں لیکن ایم۔اے میں جا کر فرسٹ ڈویژن حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔بعض یونیورسٹیاں ایسی ہیں کہ جن میں آج تک کوئی طالب علم ایم اے کا فرسٹ ڈویژن میں پاس نہیں ہوا۔ہمارا ایک احمدی لڑکا ہے اس نے انٹرنس (Intrance) میں ریکارڈ قائم کیا ہے۔ایف اے میں بھی ریکارڈ قائم کیا ہے۔بی۔اے میں بھی ریکارڈ قائم کیا۔سنا گیا ہے کہ جب وہ لڑکا ایم۔اے میں آیا تو ہندو پروفیسروں نے غصے سے اسے کہا کہ دیکھو! ہم تمہاری خبر لیں گے۔وہ اب شاید کوئی الزام لگا کر خبر لیں گے۔لیکن اس سال خبر آئی ہے کہ ایک ہندولڑکے کو انہوں نے سو فیصدی نمبر دیئے ہیں تا کہ آئندہ کوئی لڑکا یہ نہ کہہ سکے کہ اس نے ریکارڈ قائم کیا ہے۔اگر سو فیصدی نمبر بھی حاصل کرلے گا تو اتنے نمبر لینے والا ایک لڑکا پہلے موجود ہو گا۔اگر یہ بات درست ہے تو اس طرح انہوں نے اس احمدی لڑکے کا رستہ بند کر دیا ہے۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ جوں جوں طالب علم کالج کی اوپر کی کلاسوں میں جاتا ہے تعلیم سخت ہوتی جاتی ہے۔اگر انٹرنس سے ہی طلباء تھر ڈڈویژن میں پاس ہوں تو وہ ایف۔اے میں جاکر فیل ہو جائیں گے۔اور اگر کچھ طالب علم پاس بھی ہو جائیں تو وہ بی۔اے میں جاکر فیل ہو جائیں گے۔وہ شخص جو اپنے لڑکے کے تھر ڈڈویژن میں پاس ہونے پر خوش ہوتا ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گنا چھیلیں تو رس تو ہمارا دشمن لے جائے اور چھلکا ہم لے آئیں۔جس کا کچھ حصہ ہم جلا دیں اور کچھ حصہ سے پچھی 4 وغیرہ بنالیں۔تم خود ہی بتاؤ کہ کون فائدہ میں رہا۔ہم یا ہمارا دشمن ؟ ہم دشمن کا مقابلہ اسی صورت میں کر سکتے ہیں جبکہ ہم اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائیں۔خالی تھر ڈ ڈویژن میں کسی بچے کا پاس ہو جانا کوئی خوشی کی بات نہیں بلکہ اس بات پر خوش ہونا بھی بہت شرم کی بات ہے۔تعلیم کی کمی کی ذمہ داری صرف والدین اور جماعت پر ہی نہیں بلکہ سکول والوں پر بھی ہے کیونکہ لڑکے دن کا اکثر حصہ سکول میں گزارتے