خطبات محمود (جلد 27) — Page 121
*1946 121 خطبات محمود بیٹھنے والوں سے پوچھ لیتے کہ آپ میں سے کوئی پڑھا ہوا ہے ؟ جو شخص کہتا کہ میں پڑھا ہو اہوں اسے اخبار دیتے اور کہتے یہ پرچہ میرے نام آیا ہے ذرا پڑھ کر سنا دیں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔یتے میں انسان کو دھکے لگتے ہیں اور ہر ایک سواری دوسری سواری سے اجنبی ہوتی ہے۔گھر سے باہر ہونے کی وجہ سے طبیعت اداس ہوتی ہے۔اگر ایسی حالت میں اخبار مل جائے تو طبیعت بہل جاتی ہے۔پس ہر شخص اس بات پر راضی ہو جاتا۔وہ ٹائیٹل پیج سے شروع کراتے اور آخر تک پڑھوا کر چھوڑتے۔درمیان میں خود ہی سوال کرتے چلے جاتے کہ یہ بات کس طرح لکھی ہے ؟ پڑھنے والا پھر اسے دوبارہ پڑھتا۔وہ ایک ایک بات پر سوال کر کے اسی طرح بار بار دہر واتے کہ مسئلہ سننے والوں کے ذہن نشین ہو جاتا۔اور جب سواریاں ٹانگہ سے اترتیں تو بعض ان میں سے اسی وقت کہہ دیتیں کہ میرا بھی بیعت کا خط لکھوا دیں۔اور بعض پہنچ لے کر چلے جاتے اور بعد میں خود تحقیق کر کے احمدی ہو جاتے۔جب ان کی مجھ سے ملاقات ہوئی تھی اس وقت تک پندرہ ہمیں آدمی ان کے ذریعہ احمدی ہو چکے تھے اور اس کے بعد وہ پندرہ بیس سال تک زندہ رہے اور اس عرصہ میں بھی کئی آدمی ان کے ذریعہ احمدی ہوئے۔اور پھر ان کے ذریعہ سے آگے احمدیت پھیلی۔اگر کوئی آدمی کام کرنا چاہے تو اس کے لئے تعلیم کی کمی روک نہیں ہو سکتی۔پس ہماری جماعت کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ڈالی ہے۔اس لئے اس اپنے مقصد کو ہر وقت مد نظر رکھنا چاہئے اور اس کا تمام تر انہماک دنیاوی مشاغل میں ہی نہیں ہونا چاہئے کہ دین کی خدمت کے لئے کوئی وقت نہ بچے۔جس طرح زمیندار کو کوئی کام کرنے کے لئے کہا جائے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ مجھے تو مرنے کی بھی فرصت نہیں لیکن جس دن اس کی بیوی یا اس کا بیٹا بیمار ہو جائے تو اسے ان کے علاج معالجہ کے لئے فرصت مل جاتی ہے۔جس طرح اپنے مال سے ہر احمدی پر چندہ دینا فرض ہے اسی طرح اس پر یہ بھی فرض ہے کہ وہ وقت کا بھی چندہ دے، اپنے اخلاق کا بھی چندہ دے، اپنے علم کا بھی چندہ دے اور ہر قسم کی بد دیانتی، بے ایمانی اور جھوٹ سے اجتناب کرے۔جو شخص ان چیزوں سے اجتناب نہیں کرتا اس کا مالی چندہ دینا اسے کیا فائدہ دے سکتا ہے۔اس زمانہ میں