خطبات محمود (جلد 27) — Page 109
*1946 109 خطبات محمود دین سکھائے اور یہ لوگ قائم مقام ہوں گے اس مامور یا خلیفہ کے جس تک ان کا پہنچنا مشکل ہے۔جیسے لوگ کہتے ہیں کہ خط سے نصف ملاقات ہو جاتی ہے۔اگر ایک خط سے نصف ملاقات ہو جاتی ہے تو ایک شاگرد جو اپنے خلیفہ کے منہ سے باتیں سن کر آئے اور واپس آکر دوسرے لوگوں کو سنائے وہ بہر حال نصف ملاقات سے زیادہ ملاقات ہو گی۔صحابہ کے متعلق ہم پڑھتے ہیں کہ وہ رسول کریم صلی للی نیم کی مجلس میں آتے ، مسائل پوچھتے اور واپس جا کر اپنی قوم کو وہ صا الله سة مسائل بتاتے اور اپنی قوم میں وہ رسول کریم صلی علیم کے نائب ہوتے تھے۔ایک ذریعہ تو اعتصام کا یہ ہے اور ایک اور ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں ہمارے لئے بنا دیا ہے۔وہ پریس ہے۔اخبار ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعہ اخباری حالات اور مذہبی خیالات کا لوگوں تک پہنچانا بہت آسان ہو گیا ہے۔خط تو کبھی کبھی آتے ہیں لیکن اخبار روزانہ آتے ہیں۔خط میں مضمون بھی تھوڑا ہوتا ہے لیکن اخباروں اور رسالوں میں مضامین بہت تفصیل کے ساتھ شائع ہوتے ہیں اور ہر شخص نصف ملاقات سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اس طرح وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا پر عمل کر سکتا ہے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ اکثر جماعتیں سلسلہ کا اخبار ” الفضل“ منگوانے میں کو تاہی سے کام لیتی ہیں اور اس کی اہمیت کو پورے طور پر نہیں سمجھتیں۔سندھ کی باقی جماعتوں کے متعلق تو میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ ان کے ہاں الفضل “ کا پرچہ آتا ہے یا نہیں، ناصر آباد کے متعلق مجھے معلوم ہے کہ یہاں الفضل کا پرچہ آتا ہے اور جب ہمارا پرچہ لیٹ ہو جاتا ہے تو ہم وہ پرچہ منگوا کر پڑھ لیتے ہیں۔پس میرے نزدیک یہ بہت ضروری بات ہے کہ ہر جماعت کم از کم الفضل کا ایک پرچہ ضرور منگوائے تا کہ ان کو جماعت کے نئے نئے مسائل کے متعلق علم ہو تار ہے اور مرکز کے احکام ان تک پہنچتے رہیں۔اسی طرح سلسلہ کے بعض رسائل ایسے ہیں جو ہفتہ واری ہیں اور بعض ایسے ہیں جو ماہوار ہیں۔ان ماہوار رسالوں میں سے ایک رسالہ ریویو آف ریلیجنز ہے۔جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ خواہش تھی کہ اس کے کم از کم دس ہزار خریدار ہو جائیں لیکن مجھے تعجب آتا ہے کہ جماعت نے اس کی طرف سے بالکل توجہ ہٹالی ہے اور اس کی اشاعت بہت محدود ہوتی جارہی ہے۔اگر جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس خواہش کا