خطبات محمود (جلد 27) — Page 110
*1946 110 خطبات محمود کوئی احساس ہو تو دس ہزار خریدار کوئی مشکل چیز نہیں۔جب ہمارے اخبار الفضل کا خطبہ نمبر 3800 چھپتا ہے اور روزانہ 2900 چھپتا ہے تو یہ کوئی مشکل امر نہیں کہ ایک ماہوار رسالہ کے دس ہزار خریدار نہ مل سکیں۔اس رسالہ کا اتنی تھوڑی تعداد میں شائع ہونا اس بات کی علامت ہے کہ جماعت نے اپنی ذمہ داری کو پورے طور پر نہیں سمجھا۔پنجاب میں ہماری جماعت کی تعداد چار پانچ لاکھ کے قریب ہے اور سارے ہندوستان میں چھ سات لاکھ کے قریب ہے۔اگر پانچ آدمی فی کنبہ سمجھ لئے جائیں تو قریباً ایک لاکھ خاندان بنتا ہے۔اور اگر فی خاندان ایک مرد شمار کریں تو پانچ لاکھ مرد ہماری جماعت کے ہندوستان میں ہوں گے۔اور اگر یہ سمجھا جائے کہ لاکھ مردوں میں سے چالیس فیصدی یا تیں فیصدی یا کم از کم بیس فیصدی ایسے ہیں جو اخبار پڑھ سکتے ہیں تو بیس ہزار آدمی ایسے ہوں گے جو اخبار پڑھ سکتے ہیں۔حالانکہ ہماری تعلیمی اوسط اس سے بہت زیادہ ہے۔اور اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ بیس ہزار میں سے دس ہزار آدمی ایسے ہیں جو اس رسالہ کے خریدنے کے ناقابل ہیں تو پھر بھی دس ہزار آدمی ایسے باقی رہ جاتے ہیں جو یہ رسالہ خرید سکتے ہیں۔اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ اس دس ہزار میں سے بھی صرف پانچ ہزار آدمی ایسا ہے جو اس رسالہ کو خرید سکتا ہے اور اگر جماعت کے دوست کوشش کرتے تو پانچ ہزار خریدار غیر احمدیوں میں سے بنا سکتے تھے۔مگر افسوس ہے کہ جماعت نے اپنی ذمہ داری اس معاملہ میں سمجھی ہی نہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ نجوں جوں جماعت کے اخبارات اور رسائل زیادہ ہوتے جارہے ہیں لوگوں کی توجہ ان کی طرف سے کم ہوتی جارہی ہے حالانکہ وہ اخبارات اور رسائل جماعت کے دوستوں کے لئے اعتصام کا ایک ذریعہ ہیں اور دینی علم میں زیادتی کا باعث ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جتنا شور ابتداء میں کسی تعلیم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے وہ بعد میں نہیں رہتا ہے۔سب سے پہلے جب رسول کریم صلی ا ہم نے لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّهِ کہا تو کفار نے اسے بہت اچنبھا سمجھا اور بہت شور مچایا حالانکہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله قرآن کریم کی ایک سطر کے برابر ہے۔پھر اس کے بعد سورہ بقرہ پر اتنا شور نہیں پڑا جتنا لا اِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کے اعلان پر پڑا تھا۔سورہ بقرہ اڑھائی پارے کے قریب ہے اور