خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 68

*1946 68 خطبات محمود سنایا کہ ایک گاؤں میں ایک احمدی عورت ووٹر تھی جس کا ہمیں علم نہیں تھا۔ووٹ دینے کی مقررہ تاریخ سے ایک یا دو دن پہلے اُسے اسقاط حمل ہو گیا اور چونکہ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ وہ ووٹر ہے اس لئے ہم نے وہاں کوئی سواری نہ بھیجوائی اس دن جب کئی گھنٹے ووٹنگ پر گزر گئے تو ایک آدمی نے آکر بتایا کہ فلاں جگہ ایک عورت بیہوش پڑی تھی اور لوگ اس کو اٹھا کر اس کے گاؤں واپس لے گئے ہیں۔اس کی باتوں سے پتہ لگتا تھا کہ وہ ووٹ دینے آئی تھی۔چنانچہ ہمارے آدمی وہاں گئے لیکن وہ وہاں نہیں تھی۔اس پر انہوں نے فوراً اس کے لئے اس کے گاؤں میں سواری بھیجی۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی اس بیماری کی حالت میں ہی چل پڑی اور اپنے گاؤں سے دو میل دور آکر بیہوش ہو کر گر پڑی۔گاؤں والوں نے اسے اٹھایا اور واپس لے گئے۔لیکن جب اسے ہوش آیا تو وہ اُٹھ کر پھر دوڑنے لگی اور کہا کہ میں نے تو ووٹ دینا ہے۔اس اثناء میں سواری بھی پہنچ گئی اور وہ اس پر سوار ہو کر ووٹ دینے آگئی۔اس نے بتایا کہ میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ خلیفة المسیح نے کہا ہے کہ جس سے ممکن ہو وہ ووٹ دینے کے لئے ضرور پہنچ جائے اس لئے میں اپنا سارا زور لگانا چاہتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح ووٹ دے آؤں۔اس عرصہ میں بیر و نجات سے آنے والے لوگوں میں سے بھی بعض کی مثالیں بڑی شاندار معلوم ہوئی ہیں۔کل ہی مجھے ایک فوجی کا خط ملا ہے وہ انبالہ میں تھا۔یہاں سے اسے تار گیا کہ تمہارا ووٹ ہے لیکن گورنمنٹ کی طرف سے جو چٹھی جاتی ہے وہ نہیں گئی۔وہ خط میں لکھتے ہیں کہ جب تار وہاں پہنچا تو دفتر کا افسر جو ہندو تھا چونکہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ میں ووٹ کے لئے جاؤں اس نے تار دبا دی۔کرنل چھٹی پر جا رہا تھا۔جب وہ چلا گیا تو اس نے مجھے تار دکھائی۔میں نے وہ تار اپنے نچلے افسر کو دی۔اس نے کہا میں تو رخصت نہیں دے سکتا بڑے افسر کے پاس جاؤ۔میں اس بڑے افسر کے پاس گیا تو اس نے کہا کرنل کی موجودگی میں چھٹی مل سکتی تھی مگر اب کیا ہو سکتا ہے۔پھر اس نے کہا یہ تو بناوٹی تار ہے۔میں نے کہامیر اووٹ ہے اور وہاں سے تار آیا ہے بناوٹی نہیں۔انہوں نے کہا کچھ بھی ہو تمہیں چھٹی نہیں مل سکتی۔میں وہاں سے آکر سیدھا سٹیشن کی طرف بھاگا اور ریل میں سوار ہوا۔امر تسر پہنچا تو بٹالہ کی ریل روانہ ہو چکی تھی۔وہاں سے دوڑ کر لاری لی۔جب لاری بٹالہ پہنچی تو قادیان کی ریل روانہ ہو چکی تھی۔