خطبات محمود (جلد 27) — Page 643
*1946 643 خطبات محمود قادیان میں کئی سالوں سے عمارتی سامان نہ مل سکنے کی وجہ سے نئے مکان نہیں بن رہے۔اُدھر بعض لوگوں نے جنگ کے ایام میں اپنے رشتہ داروں اور خاندانوں کو قادیان میں بھیج دیا تھا جو ابھی تک قادیان میں ہی رہتے ہیں۔اس لئے مکانوں کے بارے میں سخت دقت پیش آرہی ہے۔مگر باوجود اس وقت کے جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لئے مکانوں کا انتظام کرناہمارا فرض ہے اور اس کے لئے ہمیں جس قدر بھی تکلیف برداشت کرنی پڑے ہم ضرور کریں گے۔اس بارے میں میں پہلی نصیحت تو یہ کرتا ہوں کہ قادیان کے سب دوست جلسہ کے ایام میں دو چار دن کے لئے تکلیف اٹھا کر اپنے مکانوں کا زیادہ سے زیادہ حصہ مہمانوں کے لئے خالی کر دیں اور اپنے دو چار دن کے آرام کے لئے سلسلہ کو بدنام نہ کریں۔آخر اس قسم کے مصائب اور تکالیف لوگوں پر آتی ہی رہتی ہیں اور یہ مصائب بلکہ اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر مصائب بہار کے ہزاروں ہزار مظلوموں پر آئے اور اُن لوگوں کو جن تکالیف کا سامنا کرنا پڑا اور جو مصیبت انہوں نے گزشتہ ایام میں دیکھی ہے تم اُس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔مگر جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی مرضی سے دکھ برداشت کرتا ہے وہ بہت زیادہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے اور جو جبر سے کرتا ہے وہ اپنے ثواب کو خود کم کرنے کا موجب بنتا ہے۔بہار کے وہ لوگ جو مہینوں سے سخت سردی میں باہر سونے کی تکالیف برداشت کر رہے ہیں وہ بھی آخر انسان ہی ہیں۔وہ بیچارے جنگلوں میں بغیر مکانوں اور بغیر کپڑوں کے گزر اوقات کر رہے ہیں۔مگر آپ لوگوں کو یہ نہیں کہا جاتا کہ آپ جنگل میں نکل جائیں اور مہمانوں کے لئے مکان خالی چھوڑ دیں۔بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ جن دوستوں کے پاس تین کمرے ہوں وہ ایک کمرہ اپنے پاس رکھیں اور دو کمرے مہمانوں کی خاطر خالی کر دیں اور جن دوستوں کے پاس چار کمرے ہوں وہ دو یا تین کمرے مہمانوں کے لئے خالی کر دیں۔اور ایک یا دو اپنے پاس رکھیں۔اسی طرح تمام دوست جتنی زیادہ مکانیت مہمانوں کے لئے خالی کر سکتے ہوں کر دیں۔بہار کے مصیبت زدگان لوگ تو جنگل میں پڑے ہیں اور ان پر جو عذاب نازل ہوا وہ اُن کی اپنی غفلت اور کو تاہی کے نتیجہ میں ہو ا ہے یا ان کے ہمسایوں کی شقاوت قلبی کے نتیجہ میں ہوا ہے۔لیکن اگر آپ لوگ سلسلہ کے مہمانوں کی خاطر صرف دو چار دنوں کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالیں گے تو چونکہ آپ