خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 642 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 642

*1946 خطبات محمود میں سلسلہ پر 642 دین کا سچا خدمت گزار وہی کہلا سکتا ہے جو خدمت دین بھی کرے اور کھانا بھی اپنے گھر سے کھائے۔جو شخص مزدوری کے بدلے میں دین کی خدمت کرے وہ حقیقی خدمت نہیں کہلا سکتی۔اور نہ ایسا شخص اعلیٰ ثواب کا حقدار ہو سکتا ہے۔ہاں اگر اس کی خدمات نہایت اعلیٰ قسم کی ہوں اور وہ مزدوری بھی لے لیوے تو گو اُسے ثواب مل جائے گا لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مزدوری لے کر خدمت کرنے سے ثواب کم ہو جائے گا۔چاہے وہ مزدوری پیسے کی شکل میں ہو یا روٹی کی صورت میں ہو۔اس طرح وہ اتنے ثواب کا مستحق نہیں جتنا ثواب کہ اُس کو اس حالت میں مل سکتا تھا کہ وہ دین کی خدمت بھی کرتا اور مزدوری بھی نہ لیتا۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ قادیان کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ کھانے کا انتظام اپنے گھر میں کریں یا اگر وہ ان جلسہ کے ایام بھی یہ بوجھ ڈالنا چاہتے ہوں تو وہ جلسہ سالانہ کے چندہ کے علاوہ بصورت نقد یا بصورت جنس علیحدہ چندہ داخل کرائیں تاکہ ان کی خدمت خدا کے گھر میں مزدوری کے بدلہ میں نہ شمار ہو۔اگر وہ اس طرح کام کریں کہ سلسلہ کے کام کو اپنا کام سمجھیں تو اس کے لئے بہت بڑے انتظام کی ضرورت ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ اگر اس کام کو محنت اور دیانتداری سے سر انجام دیا جائے تو سلسلہ کا ہزاروں ہزار روپیہ بچ سکتا ہے۔میں منتظمین کو توجہ دلا تاہوں کہ اس انتظام کے لئے ایک خاص محکمہ بنایا جائے جس کا کام یہ ہو کہ وہ کھانے کی پرچی حاصل کرنے والوں کے ساتھ اپنا ایک آدمی بھیج کر اس بارے میں تسلی کر لیا کرے کہ پرچی حاصل کرنے والوں نے جتنے آدمیوں کی پرچی لی ہے واقعی اُن کے گھر میں اتنے آدمی موجو دہیں۔کھانا صحیح آدمیوں کی تعداد پر ملنا چاہئے نہ کہ فی کس روٹی کے حساب سے۔اس میں قانونی سچ بولنے کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔حالانکہ سچ ایک مستقل شے ہے اور اس کی حفاظت ضروری ہے۔قانونی سیچ جھوٹ کے راستے کھولتا ہے اور اس محکمہ کو بہت زیادہ مضبوط کرنا چاہئے۔اس محکمہ کا یہ بھی کام ہو کہ کوئی شخص کھانے کو ضائع نہ کرے اور ہر شخص لنگر سے اتنا کھانا حاصل کرے جتنے کی اس کو ضرورت ہو۔کیونکہ اگر وہ ضرورت سے زیادہ حاصل کرے گا تو لازماًفالتو کھانا اِدھر اُدھر تقسیم ہو گا۔سب سے آخر میں میں مکانوں کی دقت کے بارے میں کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں۔