خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 607

*1946 607 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔جب آپ نے دشمن کے سامنے ایک آیت پیش کر دی تھی تو دوسری کی طرف آپ گئے ہی کیوں تھے۔دشمن تو ہمیشہ اعتراض کیا کرتا ہے مگر ہم نے اس کو سچائی سمجھانی ہوتی ہے۔وہ بیمار ہوتا ہے اس لئے وہ ہماری ہر بات پر اعتراض کرتا ہے مگر ہمارا کام ہے کہ سچائی پر قائم رہیں اور جب تک دشمن سے اس سچائی کا اقرار نہ کر الیں اس کو نہ چھوڑیں۔دشمن تو جب بھی ہم کوئی سچائی پیش کریں گے یہی کہے گا اس کو بھی چھوڑو، اس کو بھی جانے دو۔مگر تم اسے کہو کہ یا تو تسلیم کرو کہ وہ بات جو ہم نے پیش کی ہے ٹھیک ہے۔اور اگر یہ غلط ہے تو کہو کہ غلط ہے۔چھوڑ دینے اور جانے دینے کے کیا معنی ہیں۔اور ہم اس کو چھوڑ کیسے دیں جبکہ ہزار سال سے تم غلطیاں کرتے آرہے ہو۔تمہارے علماء، صوفیاء اور پیروں اور گدی نشینوں نے اسی مسئلہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر اور ہماری جماعت پر کفر کے فتوے لگائے اور اب کہتے ہو اِس مسئلہ کو چھوڑ دو اور جانے دو۔ہم اس کو کیسے چھوڑ دیں۔یا تو مانو کہ یہ صحیح ہے جو ہم کہتے ہیں اور یا کہو کہ یہ غلط ہے۔اور اگر غلط کہتے ہو تو ہمارے ساتھ بحث کر و۔اس پر یا تو وہ تمہارے ساتھ بحث کرے گا اور یا تمہارے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گا۔پھر تم اسے یہ بھی سمجھاؤ کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تمہارے ہزاروں ہزار علماء، صوفیاء اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کے بڑے بڑے دعوے کرنے والوں کو تو اس نکتہ کی سمجھ نہ آئی اور حضرت میرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام کو سمجھ آئی جو تمہارے زعم میں ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذالك ) کافر اور دجال تھے۔قرآن کریم کا صحیح علم تو اس کو آتا ہے جو پاک انسان ہو اور خدا تعالیٰ کا مقرب ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ - 3 یعنی قرآن کریم کا علم صرف اُسی کو عطا کیا جاتا ہے جو مطہر ہو۔یہ جو مطہر کی شرط رکھی گئی ہے یہی ثبوت ہے اس بات کا کہ حضرت مرزا صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام) یقیناً ان تمام علماء، صوفیاء، پیروں اور گدی نشینوں سے زیادہ مطہر تھے۔اسی لئے تو آپ پر یہ باریکی کھلی۔اگر وہ مطہر نہ ہوتے تو آپ پر یہ باریکی کیسے کھل سکتی تھی۔پس اس رنگ میں دشمن کو مجبور کرو کہ وہ تمہارے سامنے اپنی شکست مان جائے اور پھر کبھی سر اٹھانے کے قابل نہ رہے۔ایک مسئلے کو دشمن کے سامنے پیش کرنا اور اس مسئلے کو پیش کرنا جو دشمن کے لئے توپ کے گولے سے کم نہیں