خطبات محمود (جلد 27) — Page 606
*1946 606 خطبات محمود کو یہ توفیق خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ملی۔یہ توفیق ملی تو صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو۔اس کا جواب اُس کے پاس کوئی نہ ہو گا۔اس لئے وہ مجبوراً ہتھیار ڈال دے گا اور اقرار کرے گا کہ واقعی وہ علماء اور صوفیاء اور بزرگ کہلانے والے غلطی پر تھے۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دشمن کے سامنے جب کوئی بات پیش کی جائے تو معقولیت کے ساتھ پیش کی جائے اور مضبوطی کے ساتھ اس کے ہر اعتراض کو رد کیا جائے۔ورنہ بڑے بڑے دلائل بھی کام نہیں دے سکتے۔ہمارے سلسلہ کے ایک بزرگ مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی اچھے عالم اور سلسلہ کے ایک بزرگ شخص تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے تھے۔مگر ان میں قوت گویائی نہ تھی۔وہ کہیں غیر احمدی علماء سے وفات مسیح کے مسئلہ پر بحث کرنے کے لئے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے جو وفات مسیح کے ثبوت میں قرآن کریم کی تیس آیات اپنی کتابوں میں لکھی ہیں مولوی صاحب نے ان میں سے ایک آیت مخالف کے سامنے پیش کی۔دشمن نے اس پر اعتراض کر دیا۔مولوی صاحب بجائے اس کے کہ اُس کے اعتراض کا جواب دیتے۔کہنے لگے۔اچھا۔اسے نہیں مانتے تو دوسری آیت سنو۔چنانچہ مولوی صاحب نے پہلی آیت کو چھوڑ کر ایک دوسری آیت پیش کر دی۔اس نے دوسری آیت پر بھی کوئی اعتراض کر دیا۔مولوی صاحب نے اسے بھی چھوڑ دیا اور ایک تیسری آیت پیش کر دی۔آخر لوگ تو سب پر ہی اعتراض کرتے رہتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر بھی کئی اعتراض کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ ہم پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔اسی طرح دیانت اور ایمان کے متعلق بھی اعتراض کر دیا کرتے ہیں اور دشمن کا تو کام ہی اعتراض کرنا ہے خواہ وہ سچائی اور تقویٰ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔جب مولوی صاحب نے تیسری آیت پیش کی تو اس پر بھی دشمن نے اعتراض کر دیا۔انہوں نے کہا اچھا اور سہی۔مولوی صاحب اسی طرح آیات پیش کرتے گئے اور دشمن سب پر ہی کوئی نہ کوئی اعتراض کرتا گیا۔آخر تنیسوں کی تیسوں آیات ختم ہو گئیں اور مخالف مولوی نے تیسویں آیت پر بھی اعتراض کر کے کہہ دیا۔اب کوئی اور آیت ہو تو اُسے پیش کرو۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا میں نے تو تیسوں کی تیسوں آیات پیش کی تھیں مگر دشمن نے ہر آیت پر کوئی نہ کوئی اعتراض کر دیا۔