خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 605 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 605

* 1946 605 خطبات محمود پورا کیا جائے۔پس ہم تربیت پر اس لئے زور دیتے ہیں کہ گھروں اور شہروں کی صفائی بھی ضروری ہوتی ہے اور تبلیغ پر اس لئے زور دیتے ہیں کہ باہر کے کام یعنی کھیتوں اور فصلوں کی دیکھ بھال بھی ضروری چیز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے ہم کو یہ گر بتایا ہے کہ وفات مسیح کا مسئلہ مسلمانوں میں تبلیغ کے لئے نہایت اعلیٰ ہتھیار ہے۔اس میں شک نہیں کہ اس مسئلہ کو چھیڑ نے ے دشمن تمہیں ضرور کہے گا کہ اس مسئلہ کو جانے دو، اس مسئلہ میں کیا رکھا ہے لیکن اس مسئلہ کو جانے دینا ایسا ہی ہو گا جیسے تمہاری کسی دشمن سے جنگ ہورہی ہو اور تمہارے پاس دشمن کو کچلنے کے لئے تو ہیں موجود ہوں اور دشمن کے پاس تو ہیں نہ ہوں اور وہ تمہیں پیغام بھیجے کہ تم تو پوں کو جانے دو اور صرف تیر اور تلوار کی جنگ لڑو۔تو کیا تم دشمن کے کہنے سے توپوں کو جانے دو گے؟ دشمن تو ہمیشہ تمہارے وار سے بچنے کی کوشش کرے گا اور تمہارے تیز اور بھسم کر دینے والے ہتھیاروں کو دیکھ کر تم سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرے گا۔اگر تم اسے مجبور کرو اور کہو کہ ہم کیوں جانے دیں۔تمہارے مولویوں، علماء، صوفیاء، پیروں، گدی نشینوں نے اسی مسئلہ کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر کفر کے فتوے لگائے تھے اس لئے ہم ہر گز نہیں چھوڑیں گے اور جب تک اس کے متعلق فیصلہ کن بات نہ کر لیں گے ہر گز نہیں جانے دیں گے۔اس طرح دشمن مجبور ہو جائے گا کہ تمہارے دلائل کو سنے اور وہ اقرار کرے گا کہ ہمارے مولویوں، علماء اور گدی نشینوں نے جھوٹ بولا تھا اور وہ اقرار کرے گا کہ ہم لوگ غلطی پر ہیں۔وہ لوگ صداقت کے سامنے ہر گز نہیں ٹھہر سکتے۔تمہارے زور دینے سے وہ مجبور ہو جائیں گے کہ تمہارے آگے ہتھیار ڈال دیں۔پھر تم انہیں کہو۔تم تو کہتے ہو ( نَعُوذُ بِالله ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جھوٹے تھے اور دجال تھے۔مگر کیا تمہارے ہزاروں صوفیاء، علماء، گدی نشین اور بزرگ سب کے سب ہی غلطی پر تھے ؟ کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے اس غلط عقیدہ کے ابطال کی سمجھ صرف دجال ہی کو ملی اور تمہارے ان ہزاروں بزرگوں کو نہ ملی؟ حضرت مرزا صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام) کے سچا ہونے کی یہی ایک دلیل کافی ہے کہ تمام مجتہ پوش صوفیاء اور گدی نشین علماء اور زہاد پیر اور بزرگ کہلانے والے اس نکتہ کو سمجھنے سے قاصر رہے اور ان