خطبات محمود (جلد 27) — Page 593
*1946 593 خطبات محمود بھی سارے کے سارے ڈوب جائیں گے۔اور دنیا کی نگاہ میں اس ملک کی کوئی عزت باقی نہیں رہے گی۔پس باوجود اس کے کہ ہندوؤں سے غلطیاں ہو رہی ہیں اور باوجود اس کے کہ مسلمانوں سے غلطیاں ہوئیں میرادل گڑھتا اور ان کی مصیبت پر غمناک ہوتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ جاؤ اور مرو کیونکہ جب تم نے قصور کیا تو اب تم اس قصور کی سزا بھی بھگتو۔کیونکہ دنیا میں کوئی شخص اپنے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنی بیوی یا اپنے دوست کو تکلیف میں مبتلا دیکھ کر یہ نہیں کہتا کہ جاؤ اور مر و بلکہ باوجود ان کی غلطی اور ان کے گناہ کے ان سے ہمدردی رکھتا ہے۔پھر جب دنیا میں اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور اپنی بیویوں اور اپنے دوستوں اور اپنے رشتہ داروں سے ان کی غلطی کے باوجود ہمدردی رکھی جاتی ہے تو میں کیوں ہندوؤں اور مسلمانوں سے ہمدردی نہ کروں۔میری ہمدردی تب غلط ہو جب میں انہیں جرم کے لئے اکساؤں اور کہوں۔اے ہندوؤ! مسلمانوں کو مارو۔یا کہوں اے مسلمانو! ہندوؤں کو مارو۔میں ایسا کر تا تو بے شک میری ہمدردی غلط اور ناجائز ہوتی۔کیونکہ میری ہمدردی گناہ کی تائید میں ہوتی۔پس میں اس بات پر غمگین نہیں کہ ہندوؤں نے کیوں مسلمانوں کو پوری طرح نہیں مارا یا کیوں مسلمانوں نے ہندوؤں کو پوری طرح نہیں مارا بلکہ مجھے اس بات کا غم ہے کہ خدا کے وہ بندے جن سے مجھے انسانیت کے لحاظ سے اشتراک حاصل ہے، جن سے مجھے وطن کا اشتراک ہے، جن سے مجھے بھائی بھائی ہونے کے لحاظ سے اشتراک ہے وہ انسانیت کو بھول گئے ہیں۔وہ خدا کو بھول گئے ہیں۔وہ مذہب کو بھول گئے ہیں۔اور وہ کام جو خدا نے میرے سپر د کیا ہے کہ میں پھر انسانوں کو ان کی انسانیت یاد دلاؤں، پھر انہیں خدا کی طرف واپس لاؤں اور زیادہ سے زیادہ مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے۔پھر مجھے اس لحاظ سے بھی ہمدردی ہے کہ جب فسادات ہوتے ہیں تو لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ فلاں شخص کس فرقہ سے تعلق رکھتا ہے بلکہ وہ بلا امتیاز ایک دوسرے کو مارتے چلے جاتے ہیں اور اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ کوئی شیعہ ہے یاسنی، احمدی ہے یا غیر احمدی۔پس اگر ہندو مسلمانوں کی لڑائی ہو تو احمدی بھی جو ناکردہ گناہ ہوتے ہیں باوجود دونوں فریق سے ہمدردی رکھنے کے مفت میں پس جاتے ہیں جس طرح گیہوں کے ساتھ گھن پس جاتا ہے۔پس مجھے ہمدردی ہے مسلمانوں سے اس لئے کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہر شخص اپنے بھائی اور