خطبات محمود (جلد 27) — Page 541
*1946 541 خطبات محمود آتا ہے۔اس لئے شہزادہ نے ہمارے دادا کو بلوایا اور کہا کہ آپ کو مجھ سے کیا دشمنی تھی کہ آپ نے مجھ سے یہ سلوک کیا؟ آخر مجھ کو بھی وہی بیماری تھی جو باز والے کو تھی۔مگر باز والے کو تو آپ نے ایک پائی کا نسخہ لکھ کر دیا اور مجھے پانچ سوروپیہ کا نسخہ لکھ دیا۔ہمارے دادا نے نسخہ لیا اور اسے پھاڑ کر پھینک دیا اور کہا اگر نسخہ استعمال کرنا ہے تو یہی کرنا ہو گا۔نہیں تو کسی اور سے علاج کروالیں۔پھر کہا یہ جو پنساری ہیں آخر ان کا بھی گزارہ چلتا ہے یا نہیں۔اگر میں پائی پائی کا ہی نسخہ لکھ کر دوں تو ان کی دکان کس طرح چل سکتی ہے ان کا تو ایک دن بلکہ ایک گھنٹہ کا خرچ بھی اِس طرح نہیں نکل سکتا۔میں نے باز والے کو اس کی حیثیت کے مطابق نسخہ لکھ کر دیا ہے اور آپ کو آپ کی حیثیت کے مطابق نسخہ لکھ کر دیا ہے۔اگر آپ ان لوگوں کی تجارت کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا فن ترقی کرے تو میں آپ کے لئے ایسا ہی نسخہ لکھوں گا جو پانچ سو روپیہ میں تیار ہو۔ورنہ آپ کی مرضی جس سے چاہیں آپ علاج کروالیں۔یہ بھی ایک طریق تو ہے۔اور اس میں شبہ نہیں کہ بعض تجار تیں چلانے کے لئے امراء کو قیمتی دوائیں لکھ کر دی جاسکتی ہیں۔مگر عام طور پر اس زمانہ میں سستے علاج کی طرف توجہ نہیں کی جاتی اور امیر و غریب سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیماری کے معاملہ میں امیر اور غریب میں فرق کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔غریب یا تو بغیر علاج کے مر جاتا ہے یا اپنی ساری پونجی دواؤں پر تباہ کر دیتا ہے۔مگر بہت سے اور اخراجات اس قسم کے ہیں کہ ان میں فرق کیا جا سکتا ہے مثلاً باپ پلاؤ کھایا کرتا تھا تو بیٹا گوشت روٹی کھا سکتا ہے۔یا باپ گوشت روٹی کھایا کرتا تھا تو بیٹا دال روٹی کھا سکتا ہے۔یا باپ دال روٹی کھایا کرتا تھا تو بیٹا خالی روٹی کھا سکتا ہے۔لیکن بہر حال جب تک وہ اپنے اخراجات کو اپنے باپ کے حالات سے بدلے گا نہیں وہ آرام کی زندگی بسر نہیں کر سکتا۔مثلاً شادی بیاہ کا معاملہ ہے۔اس بارہ میں عام طور پر عورت اگر اپنے مرد کو کوئی مشورہ بھی دے گی تو وہ ایسا ہی ہو گا جس کے نتیجہ میں بہت زیادہ روپیہ خرچ ہو۔وہ یہ نہیں سمجھتی کہ جو مشورہ میں اپنے خاوند کو دے رہی ہوں وہ خود میری اولاد کی تباہی کا موجب ہو گا۔وہ ہر قسم کے عواقب کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے خاوند سے کہتی ہے۔تمہاری بیٹیوں کی شادی ہے،