خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 542

*1946 542 خطبات محمود اگر تم نے اس موقع پر کچھ خرچ نہ کیا تو وہ کیا کہیں گی۔ان کی پھوپھیوں کی شادی ہوئی تھی تو تمہارے باپ نے اِس اِس طرح روپیہ خرچ کیا تھا۔اب ان کی شادی کا وقت آیا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اسی طرح روپیہ خرچ کرو جس طرح تمہارے باپ نے خرچ کیا تھا۔وہ یہ نہیں سمجھتی کہ جب ان کی پھوپھیوں کی شادی ہوئی تھی اس وقت خاندان کی کیا حالت تھی۔اس وقت کتنا مال تھا اور اب کتنا مال ہے۔اس وقت تو جس قدر مال تھا صرف باپ کے قبضہ میں تھا مگر اب اس کی جائیداد سات حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجو دوہ مشورہ یہی دیتی ہے کہ تمہیں ویسا ہی خرچ کرنا چاہئے جیسے تمہارے باپ نے خرچ کیا تھا۔پھر ہمسائے آتے ہیں اور اپنی آنکھوں میں جھوٹے آنسو بھر کر (خواہ مرچیں لگانے کی وجہ سے ہی انہیں آنسو آئے ہوں) کہتے ہیں آپ کے والد صاحب کا زمانہ یاد آتا ہے تو رونا آتا ہے۔اللہ بخشے بڑی خوبیوں والے انسان تھے۔انہوں نے فلاں کام یوں کیا اور فلاں کام یوں کیا۔بیٹا صاحب یہ بات سنتے ہیں تو فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اگر اولا د تباہ ہوتی ہے تو بے شک ہو جائے مگر میں اپنے والد کی ناک کو ضرور قائم رکھوں گا۔حالانکہ ناک تو تب قائم رہ سکتی ہے جب اولا د موجو د ہو۔اگر اولا د ہی نہ ہو یا، اگر اولا د تو ہو مگر وہ ذلیل ترین زندگی بسر کر رہی ہو تو باپ کی ناک نے کیا قائم رہنا ہے۔وہ تو سارے کا سارا گم ہو جائے گا کیونکہ اس کا نام اگر قائم ہو سکتا تھا تو اولا د کے ذریعہ۔جب وہ ذلیل ہو گئی تو اس کا ناک کس طرح قائم رہا۔مگر وہ اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتے اور کوشش کرتے ہیں کہ اسی معیار کو قائم رکھیں جو ان حالات سے جدا گانہ حالات میں ان کے باپ دادا نے قائم کیا تھا۔اس طرح خاندان تباہ ہوتے جاتے ہیں اور معزز لوگ ذلیل ہو جاتے ہیں۔جس طرح افراد کی زندگی پر اس قسم کے دور آتے ہیں۔قوموں کی زندگی میں بھی ایسے دور آیا کرتے ہیں اور پھر بسا اوقات ایسے قدرتی حوادث کا بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو کسی کے وہم اور گمان میں بھی نہیں ہوتے۔فرض کرو ایک شخص کی بھی سو روپیہ آمدن ہے۔دوسرے شخص کی بھی سو روپیہ آمدن ہے۔تیسرے شخص کی بھی سو روپے آمدن ہے اور پھر اُن کے بیوی بچے بھی برابر ہیں۔لیکن بارش ہوئی ایک کا مکان گر گیا اور دوسروں کے مکان سلامت رہے۔اب خواہ ان تینوں کی آمد یکساں تھی۔جب تک وہ سو روپیہ والا جس کا مکان