خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 538

*1946 538 خطبات محمود تباہی کی 99 فیصدی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے بدلے ہوئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش نہ کی۔مثلاً اسلام نے وراثت کی تقسیم لازمی رکھی ہوئی ہے۔اگر کسی کا لاکھ روپیہ تجارت پر لگا ہوا ہے اور دس ہزار روپیہ سالانہ اس کی آمد ہے تو وہ گویا آٹھ سو روپیہ ماہوار کما رہا ہے۔اور اگر اُس کا دو تین لاکھ روپیہ تجارت پر لگا ہوا ہے تو وہ چوبیس سو روپیہ ماہوار کما رہا ہے۔لیکن فرض کرو اس کے آگے سات لڑکے ہیں۔اگر اس کی آٹھ سو روپیہ آمدن تھی تو سات لڑکوں میں سے ہر لڑکے کی آمد ایک سو چودہ روپے کے قریب ہو گی اور ایک سو چودہ روپے کمانے والے کی حالت اور آٹھ سو روپیہ ماہوار کمانے والے کی حالت یکساں نہیں ہو سکتی۔بہت سے اخراجات تو ایسے ہیں جو لازماً سب کو ایک جیسے کرنے پڑتے ہیں۔چاہے کوئی امیر ہو یا غریب۔مثلاً بیماری ہے۔بیماری کے اخراجات میں کوئی فرق نہیں ہو سکتا۔بے شک خدا تعالیٰ نے کچھ سستی دوائیں بھی بنائی ہیں مگر طبیب کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ وہ مریضوں کے حالات کے مطابق نسخہ لکھے۔وہ تو قلم اٹھا کر جو نسخہ اسے یاد ہوتا ہے لکھتا چلا جاتا ہے اور اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتا کہ مریض دواؤں کے اخراجات کا متحمل بھی ہو سکتا ہے یا نہیں۔بے شک بعض ایسے طبیب بھی ہوتے ہیں جو بیماروں کی مالی حالت کا خیال رکھتے ہیں مگر ڈاکٹر قطعاً بیمار کا خیال نہیں رکھتے اور چونکہ عام طور پر ڈاکٹروں کو دوا خانوں سے کمیشن ملتا ہے اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جتنا بھی قیمتی نسخہ لکھیں گے اتنا ہی ہمارا فائدہ ہو گا۔قادیان میں جو ڈاکٹر ہیں ان کا تو یہ حال نہیں لیکن ماہر ڈاکٹروں کو چونکہ دواؤں میں سے کمیشن ملتا ہے اس لئے وہ کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ قیمتی نسخے لکھیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ایک غریب آدمی ان کے پاس علاج کے لئے آتا ہے تو وہ اسے کہہ دیتے ہیں کہ تمہیں سو روپے کے ٹیکے لگیں گے۔روپیہ لاؤ تو ٹیکے کر دیئے جائیں گے۔حالانکہ وہ غریب جو اپنے بچہ کی شادی پر بھی سو روپیہ خرچ کرنے کی توفیق نہیں رکھتا وہ ٹیکوں کے لئے سو روپیہ کہاں سے لا سکتا ہے۔کسی نے دوڑ دھوپ کر کے دوستوں سے مانگ لیا تو علاج ہو گیا۔ورنہ عام طور پر جب کوئی روپیہ خرچ نہ کر سکے تو اسے کہہ دیا جاتا ہے کہ تمہارا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہو تا ہے۔آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی بیماری کا علاج تو سو روپے کا ٹیکا