خطبات محمود (جلد 27) — Page 537
*1946 537 (39) خطبات محمود -------------------------- اپنی زندگی سادہ بناؤ، خلیفہ وقت کے حکم پر ہر احمدی کو اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے ) فرموده 25/اکتوبر 1946ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔”انسانی اعمال اُس کے حالات کے ماتحت بدلتے رہتے ہیں۔میرا مطلب یہ ہے کہ ایسے اعمال جو جائز ہوتے ہیں ورنہ جو نا جائز اعمال ہیں وہ تو بہر حال ناجائز ہی ہیں۔مگر جائز اعمال بھی حالات کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں۔ایک شخص جو لاکھوں روپے کماتا ہے اگر أَما بِنِعْمَةِ رَبَّكَ فَحَيَّات 1 کے ماتحت اُس کے جسم پر یا اُس کے کھانے میں ایسے آثار نظر آتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی اس نعمت کا شکریہ کہلانے کے مستحق ہیں تو یہ اور بات ہے۔لیکن وہی انسان اگر تجارت یا اپنے دوسرے کاموں میں نقصان کی وجہ سے اپنا مال کھو بیٹھتا ہے تو اس کو اپنے حالات کے ماتحت ان جائز کاموں میں بھی کمی کرنی پڑتی ہے۔اور اگر اس کی اولاد اس کے مال کی تقسیم کی وجہ سے تھوڑے تھوڑے مال کی وارث ہو جاتی ہے اور اُسے اپنے ماں باپ کی طرح اپنی زندگی گزارنے کی توفیق نہیں ملتی اُس وقت عقل کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ وہ کم روپیہ میں گزارہ کرنے کی کوشش کرے اور یا پھر اپنی آمدنی کو بڑھانے کی تجویز کرے۔اکثر تباہیاں دنیا میں اسی لئے واقع ہوتی ہیں کہ لوگ بدلے ہوئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے۔دنیا میں جس قدر بڑے بڑے خاندانوں کی تباہی کے واقعات ہوئے ہیں ان کی