خطبات محمود (جلد 27) — Page 45
خطبات محمود 45 *1946 پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان باقی چار پانچ دنوں میں بے انتہا آدمیوں کی ضرورت ہے۔اگر اس وقت قربانی نہ کی گئی تو جماعت کو بہت بڑی ندامت کا سامنا ہو گا۔ہمیں سائیکلوں کی ضرورت ہے اور سائیکل سواروں کی ضرورت ہے اور جن کے پاس سائیکل نہ ہوں لیکن ان کی قوم کے آدمی ان علاقوں میں ہوں جن میں پولنگ ہو رہا ہے اور وہ سمجھتے ہوں کہ وہ اپنی قوم کے آدمیوں پر اثر ڈال لیں گے تو انہیں بھی اپنے نام پیش کرنے چاہئیں۔میں اس معاملہ میں کسی کو حکم نہیں دیتا۔صرف اہمیت بیان کرنے پر ہی اکتفا کر تاہوں اور ان امور کی اہمیت بیان کرنا میرا فرض ہے۔ابھی سری گوبند پور ، فتح گڑھ چوڑیاں اور ڈیرہ بابا نانک میں پولنگ باقی ہے۔جن دوستوں کی وہاں رشتہ داریاں ہوں انہیں بھی اپنے ناموں سے اطلاع دینی چاہئے یا ایسے لوگ جو سمجھتے ہوں کہ ہمارے اندر یہ ملکہ ہے کہ ہم لوگوں پر اثر ڈال لیں گے اور انہیں اپنی بات منوالیں گے۔ان کو بھی اپنے نام لکھوا دینے چاہئیں۔عورتوں سے تو پہلے ہی تم پھنڈی 2 نکلے ہو۔اب کوشش کر کے ان کے برابر تو ہو جاؤ۔امیر تیمور نے ایک دفعہ مولویوں کو عورتوں سے پیچھے جگہ دی۔جب انہوں نے کچھ کہنا چاہا تو اس نے کہا کہ تم عورتوں سے بھی پیچھے ہو چکے ہو اس لئے تمہیں جگہ بھی ان کے پیچھے ملے گی اسی طرح تم بھی اب عورتوں سے پیچھے رہ چکے ہو۔کوشش کرو کہ ان دنوں میں اس کمی کو پورا کر کے ان کے برابر ہی ہو جاؤ کیونکہ الْفَضْلُ لِلْمُتَقَدِّهِ فضلیت تو تقدم حاصل کرنے والے کو ہوتی ہے۔عورتوں نے الیکشن میں قربانی کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کے اس ذکر کو ہمیشہ تازہ رکھا جائے اور بار بار جماعت کے سامنے اس واقعہ کو لایا جائے۔انہوں نے بے نظیر قربانی اور نہایت اعلیٰ درجہ کی جان نثاری کا ثبوت دے کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ مردوں سے قومی کاموں میں آگے نکل گئی ہیں۔مردوں کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ قومی کاموں میں سست ہیں اور قومی قربانی کے مفہوم کو پورے طور پر نہیں سمجھتے۔دین کے لئے قربانی کا ذکر آئے تو وہ اس کے لئے تیار نظر آتے ہیں لیکن قومی مفاد کو بر قرار رکھنے کے لئے اگر کسی قربانی کا مطالبہ کیا جائے تو اس کی طرف پوری توجہ نہیں دیتے۔لوگوں کی اسی ذہنیت کی وجہ سے گورنمنٹ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ کوئی شخص خدا کے غضب سے ڈرا کر ووٹ