خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 522

*1946 522 خطبات محمود انہوں نے ڈچ حکومت کی ملازمت سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں اپنے ملک کی خدمت کر رہا ہوں میں تم میں شامل نہیں ہو سکتا۔اس لئے یہی شبہ ہو سکتا ہے کہ ڈچ حکومت نے انہیں قید کر دیا ہو۔اگر ایسا ہے تو خطرہ ہے کہ اُن کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔آج ہی ایک دوست نے بتایا کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ وہ اندرون ملک چلے جائیں اور وہاں نہ رہیں جہاں ڈچ حکومت ہے۔لیکن ری پبلکن حکومت نے اُن کو مشورہ دیا کہ ابھی آپ نہ جائیں اور یہیں کام کرتے رہیں۔اس لئے غالب گمان یہی ہے کہ ڈچ حکومت نے ان کو پکڑ لیا ہے۔بہر حال وہاں کی جماعت کو صدمہ ہے اور وہ بار بار خطوط لکھ رہے ہیں کہ مولوی محی الدین صاحب کے متعلق دعا کی جائے کیونکہ وہ جماعت کے بہت بااثر آدمی ہیں اور نہایت مفید کام کرنے والے وجود ہیں۔زیادہ صدمہ کی بات یہ ہے کہ ان کی لڑکی یعنی مولوی عزیز احمد صاحب کی بیوی اس صدمہ میں پاگل ہو گئی ہے۔یوں تو سب لوگ مرتے ہیں لیکن یہ خیال کہ نہ معلوم دشمن کی طرف سے میرے باپ کو کیا کیا تکالیف پہنچائی جارہی ہوں گی اس نے ان کی لڑکی پر ایسا اثر ڈالا کہ وہ پاگل ہو گئی ہے۔میں دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اپنی دعاؤں میں خاص طور پر مولوی محی الدین صاحب کو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں حفاظت سے رکھے ، خیریت سے واپس لائے اور جماعت کی خدمت کا انہیں مزید موقع عطا فرمائے اور ان کی لڑکی کو بھی صحت دے۔نہ صرف خود اس لڑکی کے خیال سے بلکہ اس خیال سے بھی کہ ہمارا مبلغ زیادہ سہولت اور دلجمعی سے کام کر سکے۔2۔جماعت احمدیہ زیادہ سے زیادہ اپنے لڑکے قادیان بھیج کر تعلیم دلائے : اسی سلسلہ میں میں جماعت کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے جس رنگ میں ہماری جماعت پھیل رہی ہے وہ ایک غیر معمولی امر ہے۔بظاہر ایک ایک اور دو دو آدمی ہماری جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔لیکن وہ ایک ایک اور دو دو اس طرح داخل ہو رہے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خاص منشاء ان کے پس پردہ کام کر رہا ہے۔ایک جزیرہ کے متعلق اطلاع پہنچی ہے جو کہ وہاں کا راجہ احمدیت میں داخل ہو گیا ہے۔جزیرہ بہت چھوٹا سا ہے لیکن بہر حال اس جزیرہ کا راجہ احمدی ہو چکا ہے اور اس کے ذریعہ سے اس کا باقی خاندان بھی مجھے یاد نہیں کہ میں نے اس کا پہلے بھی ذکر کیا ہے یا نہیں۔