خطبات محمود (جلد 27) — Page 521
*1946 521 خطبات محمود معلوم ہوتا ہے بعض اعلیٰ حکام حتی کہ بعض وزراء تک بھی ہمارے مبلغوں سے ملتے ہیں، اُن سے مشورہ بھی کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے ہندوستان پیغام بھی بھجواتے ہیں۔وہاں ہماری جماعت کے ایک معزز دوست مولوی محی الدین صاحب ہیں جو ہمارے مبلغ مولوی عزیز احمد صاحب کے خسر ہیں۔مولوی عزیز احمد صاحب کنجاہ ضلع گجرات کے رہنے والے ہیں اور وہ تحریک جدید کے ماتحت اس ملک میں تبلیغ اسلام کے لئے بھجوائے گئے تھے۔انہوں نے وہاں مولوی محی الدین صاحب کی لڑکی سے شادی کر لی۔مولوی محی الدین صاحب وہاں ہماری جماعت میں بہت اعزاز رکھتے ہیں اور ری پبلکن حکام میں بھی ان کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔مگر اب مولوی رحمت علی صاحب اور بعض دوسرے دوستوں کی چٹھیوں سے معلوم ہوا ہے کہ رات کو چھاپہ مار کر کوئی اُن کو قید کر کے لے گیا ہے۔ابھی تک یہ پتہ نہیں لگ سکا کہ ان کو کون قید کر کے لے گیا ہے۔ایک ماہ بلکہ ڈیڑھ ماہ کے قریب عرصہ ہو گیا ہے ابھی تک ان کے متعلق کوئی معلومات حاصل نہیں ہوئیں اور یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کو کس نے پکڑا ہے۔وہاں اس وقت چار قسم کی جماعتوں کا زور ہے۔اول ڈچ حکومت جو بعض ساحلی شہروں پر ہے۔دوسرے بعض ساحلی شہروں پر برطانوی حکومت ہے جو جاپانی قیدیوں کا انتظام کرنے کے نام سے قائم ہے۔پھر ایک ری پبلکن حکومت ہے یعنی جاوا اور سماٹرا کے اصل باشندوں کی حکومت۔وہ آگے دو حصوں میں منقسم ہے۔ایک کمیونسٹ پارٹی ہے جس نے الگ انتظام کر رکھا ہے۔یہ پارٹی ایک دفعہ ڈاکٹر شہر یار وزیر اعظم کو بھی پکڑ کر لے گئی تھی۔دوسری انڈو نیشین حکومت ہے جس کے پریذیڈنٹ ڈاکٹر سکار نو (Soekarno) اور وزیر اعظم مسٹر شہر یار ہیں۔انہی چاروں میں سے کسی ایک کے متعلق یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ وہ انہیں پکڑ کر لے گئی ہو۔لیکن جہاں تک انسانی عقل کام کرتی ہے ری پبلکن حکومت کا یہ کام نہیں ہو سکتا کہ وہ انہیں گرفتار کر کے لے گئی ہو کیونکہ ہماری جماعت ری پبلکن حکومت کے ساتھ کام کرتی رہی ہے اور اس زمانہ سے کام کرتی رہی ہے جب انڈونیشیا پر جاپان کا قبضہ تھا۔مولوی محی الدین صاحب کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ چونکہ گزشتہ ڈچ حکومت کے زمانہ میں وہ ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز تھے ، ڈچ حکومت نے ان کو بہت لالچیں دیں اور کہا کہ پھر ہماری ملازمت میں آ جاؤ۔مگر