خطبات محمود (جلد 27) — Page 434
*1946 434 خطبات محمود کیونکہ صحابہ اسلام کی عمارت کی بنیاد رکھنے والے تھے اور یہ لوگ اس عمارت کو سجانے والے تھے۔یہ دونوں گروہ عزت کے لحاظ سے ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو قربانی ہم پر عائد کی گئی ہے جب تک ہم وہ قربانی نہ کریں اُس وقت تک ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی برکت اور رحمت کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔اگر ہمیں جلدی جلدی فتوحات حاصل نہیں ہوئیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی ہم میں غفلتیں اور سستیاں موجود ہیں جو ہمیں کامیابی کے قریب نہیں جانے دیتیں۔ورنہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے فضلوں کے دروازے ہمارے لئے بند نہیں۔اگر پہلی جماعتوں نے قربانی کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیا اور سینکڑوں طرح کی رحمتیں اور فضل ان پر نازل ہوئے۔تو کیا وجہ ہے کہ اگر ہم بھی اسی قسم کی قربانیاں کریں تو اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اپنے فضلوں کے دروازے نہ کھولے۔ان لوگوں سے اللہ تعالیٰ کا کوئی رشتہ تھا کہ وہ ان کو جلدی کامیاب کر دے اور ہمارے لئے دیر کرتا چلا جائے۔حقیقت یہی ہے کہ جو شخص بھی صحابہ جیسے کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے صحابہ جیسا ہی سلوک کرے گا۔جو شخص حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں جیسے کام کرے گا اللہ تعالیٰ اُس سے حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں جیسا ہی سلوک کرے گا۔جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں جیسے کام کرے گا اللہ تعالیٰ اُس سے آپ کے ساتھیوں جیسا سلوک ہی کرے گا۔جو شخص حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھیوں جیسے کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے آپ کے ساتھیوں جیسا ہی سلوک کرے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ منصف ہے اور عادل ہے وہ ہر ایک سے عدل کرتا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہے کہ وہ رحم کر کے عمل سے اس کی مزید جزا دیتا ہے اور وہ کسی کا حق نہیں مارتا۔ہماری جماعت بھی اگر قربانیوں میں صحابہ کا رنگ اختیار کرے اور تبلیغ کے لئے نکل کھڑی ہو تو وہ کامیابی کو بہت قریب پائے گی۔میں نے کل رات ایک رؤیا دیکھا ہے جس میں جماعت کو تبلیغ کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک کمرے میں ہوں اور خواب میں یہی سمجھتا ہوں کہ میں قادیان میں ہوں۔کمرے میں کچھ لوگ میرے سامنے ہیں اور کچھ لوگ دروازہ میں سے