خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 433

*1946 433 خطبات محمود انسان تھے لیکن ان سے حضرت ابوہریرہ اور حضرت حسان کا کام بھی زیادہ شاندار ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہا اور حضرت حسان نے اُس وقت کام کیا جس وقت اسلام کی بنیاد رکھی جارہی تھی اور اسلامی عمارت تعمیر ہو رہی تھی۔لیکن بعد میں آنے والوں نے اس مکان میں بیل بوٹے بنانے کا کام کیا۔اگر مکان میں بیل بوٹے نہ ہوں تو بھی گزارہ ہو سکتا۔لیکن مکان کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔جو کام حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمانؓ اور حضرت علی نے کیا۔اگر وہ اس کام کو سر انجام نہ دیتے تو آج اسلام نہ ہوتا۔لیکن جو کام حضرت امام ابو حنیفہ حضرت امام مالک حضرت امام حنبل اور حضرت امام شافعی نے کیا۔اگر وہ یہ کام نہ بھی کرتے تو بھی اسلام باقی رہتا۔پس صحابہ کی عزت بعد میں آنے والے بزرگوں سے اس لئے زیادہ ہے کہ اسلام کی کا بنیاد ان کے ذریعہ پڑی۔ورنہ روحانی لحاظ سے تو میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی انسان صحابہ درجہ حاصل کر سکتا ہے۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ آج کوئی شخص صحابہ کے درجہ کو نہیں پہنچ وس سکتا تو وہ غلط کہتا ہے کیونکہ خود قرآن کریم کہتا ہے خُلةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ 2 اور اسی سورۃ میں دوسری جگہ ہے ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ - 3 ان آیات سے الله سة صاف پتہ لگتا ہے کہ بعد میں بھی کچھ لوگ صحابہ کے درجہ کے ہوں گے۔گو رسول کریم صلی الی یم کے قرب کی وجہ سے پہلے لوگوں میں سے ایسے لوگ زیادہ تھے اور بعد میں آنے والوں میں سے تھوڑے ہوں گے کیونکہ اس وقت رسول کریم صلی علیم سے بعد ہو چکا ہو گا۔آپ کے قرب کی وجہ سے حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر جیسے لوگ سینکڑوں میں سے بیسیوں تھے اور آپ کے زمانہ کے بعد کی وجہ سے آپ کے بعد آنے والوں میں سے لاکھوں میں سے سینکڑوں ہوں گے لیکن ہوں گے ضرور۔اور کوئی وقت اسلام پر ایسا نہیں آیا اور نہ ہی آسکتا ہے جبکہ اسلام پر بالکل اندھیرا چھا جائے۔میں سمجھتا ہوں جہاں تک روحانی مدارج کا سوال ہے حضرت امام ابو حنیفہ حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی ، حضرت امام حنبل حضرت سید عبد القادر جیلانی اور معین الدین چشتی میرے نزدیک کئی صحابہ سے کم نہ تھے۔لیکن جہاں تک مقام عزت کا سوال ہے یہ لوگ صحابہ سے کم ہیں