خطبات محمود (جلد 27) — Page 393
*1946 393 خطبات محمود کی طرف توجہ کرنی پڑتی ہے۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ سے ہماری جماعت کا تعلق ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے قائم کیا ہے اس لئے وہ براہ راست نئے نئے علوم کے ذریعہ اپنے نور کے ذریعہ اور اپنی ہدایت اور رُشد کے ذریعہ اس جماعت کی رہنمائی فرماتا ہے اور یہ چیز دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔چونکہ وہ اس سے محروم ہیں اس لئے ہمارا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ ایسے حالات میں ہماری رہنمائی فرماتا ہے ان کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ہاں جتھا اور اکثریت اُن کے ساتھ ہے اس لئے اُن کی غیر معقول بات بھی سننے والوں پر اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ لوگ جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے جتھا ہے۔لیکن ہماری معقول بات بھی غیر معقول سمجھی جاتی ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک چھوٹی سی جماعت کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔میں نے ہندوستان کے موجودہ حالات کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ بعض اوقات اختلاف نیک نتائج کی بجائے بد نتائج پیدا کرتا ہے اور مفید ہونے کی بجائے مضر پڑتا ہے۔ورنہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے رستے موجود ہیں کہ جن کے ذریعہ مسلمان باوجود دوسروں سے تعداد میں قلیل ہونے کے ان پر غالب آجائیں اور دنیا کی کوئی طاقت ان کو نظر انداز نہ کر سکے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ان کا بیان نہ کرنا ان کے بیان کرنے سے بہتر ہے کیونکہ بعض اوقات اچھی اور معقول بات بھی تفرقہ اور شقاق کا موجب بن جاتی ہے۔اور دنیوی کاموں میں بعض دفعہ سیدھا رستہ ان کے لئے مضر اور خطرناک ہوتا ہے کیونکہ تفرقہ پیدا ہو کر طاقت ضائع ہو جاتی ہے۔لیکن غلط راستہ باوجود غلط ہونے کے کامیابی کے قریب کر دیتا ہے کیونکہ پجہتی سے قوم کے اندر طاقت پیدا ہوتی ہے۔یہ بھی چونکہ دنیوی معاملہ ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ضروری نہیں کہ میں اپنے خیالات کا ضرور اظہار کروں۔صرف دینی امور ہی ہیں کہ ان کے بارہ میں انسان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ جس بات کو وہ صحیح سمجھتا ہے اس کا اظہار کرنے سے دریغ نہ کرے۔اگر چہ اس کی گردن تلوار کے نیچے کیوں نہ ہو۔لیکن دنیوی معاملات میں خاموشی اختیار کی جاسکتی ہے اور حکمت اور مصلحت وقت کو مد نظر رکھنا مناسب ہوتا ہے۔اگر ایک شخص یہ جانتا ہے کہ اس کی تجویز اور اس کے مشورہ سے قوم میں افتراق اور انشقاق کا خطرہ ہے۔اگر قوم میں افتراق پیدا ہو گیا تو اس کی کامیابی کا