خطبات محمود (جلد 27) — Page 362
*1946 362 خطبات محمود اور جس دن وہ ان کو کھاتے ہیں تو وہ یہ محسوس کرتے ہیں گویا اُن کے لئے عید آئی ہے لیکن ہمارے ہاں غریب سے غریب آدمی بھی پیسے بیٹی یا دو پیسے بٹی خربوزے لے کر کھا لیتا ہے اور اسے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ اس نے کوئی نئی چیز یا کوئی نیا پھل کھایا ہے۔یہی حال ان قوموں کا ہوتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کثرت سے انعام ہوتے ہیں۔انعامات کی کثرت کی وجہ سے ان کے دلوں میں ان انعامات کی قدر کم ہو جاتی ہے اور جب ان کے سامنے خدا کا کوئی نشان بیان کیا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں یہ باتیں تو ہم ہر روز سنتے رہتے ہیں۔لیکن حقیقی مومن کا طریق یہ نہیں۔وہ ہر انعام کی قدر کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پہلے تمام نعماء اور تمام احسانات کو شمار کرنا شروع کر دیتا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں جنتیوں کے متعلق آتا ہے کہ وہ اس نگاہ سے نعمت کو نہیں دیکھیں گے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ ایک نعمت دی ہے بلکہ اس نگاہ سے دیکھیں گے کہ یہ نعمتوں کی کڑی میں سے ایک کڑی ہے۔موتی اپنی جگہ بے شک بہت قیمت رکھتا ہے لیکن ہار کی قیمت ایک موتی کی قیمت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔جب بھی ان پر کوئی انعام ہو گا تو وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ کا کتنا احسان ہے کہ اس کا یہی ایک انعام نہیں ہوا بلکہ اس نے ایک لمبا سلسلہ انعاموں کا ہمارے لئے جاری کیا ہے۔پس مومن اللہ تعالیٰ کے انعامات کا عادی نہیں ہو جاتا کہ نئے انعام کے وقت اسے یہ محسوس ہی نہ ہو کہ اس پر خدا تعالیٰ نے انعام کیا ہے بلکہ جب بھی اس پر اللہ تعالیٰ کوئی انعام کرتا ہے تو وہ اگلے پچھلے سب انعاموں کو یاد کرتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب بھی جنتیوں کو کوئی انعام دیا جائے گا تو وہ کہیں گے هذا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ 5 کہ یہ اب پہلی دفعہ انعام نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی فلاں فلاں موقع پر اللہ تعالیٰ نے ہم پر ایسے ہی انعامات کئے تھے۔یعنی جب جب ان کو کوئی نعمت ملے گی تو وہ کہیں گے کہ خدا تعالیٰ کا ایک اور احسان نازل ہوا۔غرض جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کثرت سے نشان ظاہر ہوں اُس وقت مومنوں کا بھی یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ ان نشانات کی قدر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ قربانی کریں۔ورنہ آہستہ آہستہ نشانات کے متعلق قوم میں بے تو جنگی پیدا ہو جاتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسانات اور انعامات کا سلسلہ شروع ہو تو پھر اس بات کو نہیں دیکھا جاتا کہ یہ انعام بڑا ہے اور یہ انعام چھوٹا ہے۔ہر آنے والا