خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 355

*1946 355 خطبات محمود مسلم لیگ کے ساتھ شامل ہو گیا ہے لیکن انتخاب کے وقت لیگ نے احمدیوں کو ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔پس یہ نہیں کہا جاسکتا کہ چونکہ ہم مسلم لیگ کے ساتھ ہیں اس لئے ہمیں نہیں بلایا گیا۔مسلم لیگ تو خود ہمیں اپنے ساتھ شامل نہیں کرتی۔تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہم مسلم لیگ کا حصہ ہیں۔اصل بات یہی ہے کہ ابھی دنیا ہمارا قانونی وجود تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور ہماری تعداد کے لحاظ سے ملکی معاملات اور اقتصادی معاملات میں ہمارا حصہ اتنا چھوٹا اور اتنا تھوڑا ہے کہ دنیا اسے الگ حیثیت دینے کو تیار نہیں۔دنیا ہماری نسبت یہی خیال کرتی ہے کہ جس طرح دنیا میں بعض اور سوسائٹیاں ہیں اسی طرح یہ بھی ایک سوسائٹی ہے۔اس سے زیادہ وہ ہمیں کوئی اہمیت نہیں دیتی۔اور وہ اس بات کو نہیں مانتی کہ مستقبل میں اس جماعت کو کوئی بڑی پوزیشن حاصل ہونے والی ہے اور دنیا کے کاروبار میں آئندہ اس جماعت کا بہت کچھ دخل ہو گا اور وہ اپنے مطالب کو اور مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کوئی موثر کوشش کرے گی۔اور دنیا اس بات کو بھی تسلیم نہیں کرتی کہ قریب زمانہ میں ہی اس جماعت کے ذریعہ کچھ تغیر رونما ہوں گے جو دنیا کو مجبور کریں گے کہ وہ اس جماعت کا قانونی وجو د مانے۔لیکن میں آج یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ وہ وقت بہت قریب زمانہ میں ہی آنے والا ہے کہ دنیا ہمارے قانونی وجود کو تسلیم کرلے گی۔میرا اندازہ ہے کہ جماعت کی یہ پیدائش ہیں پچیس سال کے عرصہ میں ضرور ہو گی۔انشاء اللہ۔کوئی شخص یہ کہے کہ میں پچیس سال کا عرصہ بہت لمبا عرصہ ہے اور اس عرصہ میں بڑے بڑے تغیرات ہو جاتے ہیں لیکن ایسے شخص کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ افراد کے تغیرات میں اور جماعت کے تغیرات میں بہت بڑا فرق ہے۔ایک فرد کی پیدائش نوماہ کے بعد ہو جاتی ہے لیکن جماعتوں کی پیدائش بعض دفعہ سوسال کے بعد بعض دفعہ دو سو سال کے بعد اور بعض دفعہ تین سو سال کے بعد ہوتی ہے۔عیسائیت کی پیدائش دو تین سو سال کے بعد ہوئی۔لیکن ساری انسانی زندگی بھی دو تین سو سال نہیں ہوتی۔گاندھی جی نے لکھا ہے کہ میں ایک سو پچیس سال تک زندہ رہنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کی یہ بات کہاں تک درست ہو گی لیکن اگر درست بھی ہو تو پھر بھی مسیحی قوم کی پیدائش کی مدت سے یہ کتنی تھوڑی مدت ہے۔میں نے ڈلہوزی میں ہی ایک خبر پڑھی تھی کہ روس کے ایک ڈاکٹر نے