خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 345

*1946 345 خطبات محمود بڑھاپے کا تجربہ بھی اس کو حاصل ہوتا ہے۔اس کے تینوں زمانے قائم ہوتے ہیں لیکن عام طور پر لوگ جب بوڑھے ہو جاتے ہیں تو واقع میں بوڑھے ہو جاتے ہیں اور جب وہ جو ان ہوتے ہیں تو واقع میں ان میں جوانی ہی کے اثرات موجود ہوتے ہیں۔بے شک استثنائی مثالیں اس کے خلاف پائی جاسکتی ہیں لیکن استثناء قانون کو باطل نہیں کرتا۔قانون یہی ہے جو بوڑھے ہیں وہ بوڑھے ہیں۔جو جو ان ہیں وہ جو ان ہیں اور جو بچے ہیں وہ بچے ہیں۔بڑھاپے میں قوت عملیہ کمزور ہو جاتی ہے اور جسمانی قوی مضمحل ہو جاتے ہیں۔اس لئے انسان ایسی قربانیاں نہیں کر سکتا جیسی قربانیاں کہ جو ان کر سکتے ہیں کہ وہ وطن سے دور چلا جائے یا فاقہ برداشت کر سکے۔لیکن جوان آدمی میں ان باتوں کی برداشت کی قوت موجود ہوتی ہے اور اس کی قوت عملیہ مضبوط ہوتی ہے اور جسمانی اعضاء میں طاقت اور توانائی ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ اس میں لڑنے بھڑنے کا جوش زیادہ ہوتا ہے اور معمولی معمولی باتوں پر لڑنے کو تیار ہو جاتا ہے۔بوڑھا آدمی سوچتا ہے کہ میرے اس فعل کا نتیجہ کیا نکلے گا اور اس کے لمبے تجربہ کی وجہ سے اس کے شہوانی رجحانات کم ہو جاتے ہیں اور بڑے جوش کم ہو جاتے ہیں اور لڑنے بھڑنے کا جذبہ کم ہو جاتا ہے اور تنظیم کا ہاتھ مضبوط ہو جاتا ہے۔پس ہمیں سب قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔ہمیں نوجوانوں کی بھی ضرورت ہے جو مختلف ممالک میں تبلیغ کے لئے اپنے وطنوں سے دور جائیں اور سفر کی تکالیف کو برداشت کریں اور ہمیں بوڑھوں کی بھی ضرورت ہے جن کو ہم نگرانی کے کاموں پر لگا سکیں۔پس آج میں پھر ان دوستوں کو تحریک کرتا ہوں جو پنشن حاصل کر چکے ہیں کہ وہ آئیں اور خدمت دین کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔میری کوئی تحریک اتنی ناکام نہیں رہی جتنی یہ تحریک ناکام رہی ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑھاپے میں قوت عملیہ کم ہو جاتی ہے۔بعض لوگ یہ عذر پیش کر دیتے ہیں کہ ہم اب کام کے قابل نہیں رہے یا بعض یہ کہہ دیتے ہیں ابھی ہم پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ کسی جگہ دوبارہ عارضی ملازمت کر لیں۔ایسے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ ان کی تو چند سالوں کی قربانی ہے لیکن نوجوانوں میں سے سینکڑوں ایسے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگیاں اسلام اور احمدیت کی