خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 343

*1946 343 خطبات محمود ، اور فریب سے بچے، ظلم اور حق تلفی کو برا سمجھے لیکن یہ بات ماں باپ کی تربیت اور ماحول کے اثرات کے نتیجہ میں قائم نہیں رہتی۔باوجود اس کے کہ بچہ اپنی بچپن کی عمر کے لحاظ سے کمزور اور بے وقوف ہو تا ہے اور جو ان آدمی طاقت کے لحاظ سے اور بوڑھا آدمی تجربہ کے لحاظ سے اس سے زیادہ ہوتے ہیں لیکن جو فطرت کی صفائی بچے میں پائی جاتی ہے وہ نہ نوجوان میں پائی جاتی ہے اور نہ ہی بوڑھے میں پائی جاتی ہے۔ایک بڑھا آدمی باوجود اپنے لمبے تجربہ کے اپناسر ایک پتھر کے سامنے جھکا دیتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین بچپن سے لے کر اس کی جوانی تک یہ خیالات اس کے دماغ میں داخل کرتے رہتے ہیں کہ پتھر ہم کو نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے حالانکہ اگر وہ ذرا عقل سے کام لے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس پتھر کو ایک بٹہ مار کر توڑا جاسکتا ہے اور اس میں اتنی بھی طاقت نہیں جتنی ایک بلی میں یا ایک چوہے میں یا ایک مچھر میں ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی بھاگ کر اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر اس پتھر میں تو اتنی طاقت بھی نہیں کہ وہ اپنے اوپر سے مچھر کو اُڑا سکے۔لیکن ایک بڑھا آتا ہے اور اُس پتھر کے سامنے اپنا سر جھکا دیتا ہے لیکن اُس کا بچہ اپنے باپ کی اس حرکت کو دیکھ کر ہنس پڑتا ہے کہ ہیں! پتھر میں بھی کوئی طاقت ہے کہ اسے اس پتھر کے سامنے سر جھکانے کی ضرورت پیش آئی؟ بچہ اس ثبت کو اس نگاہ سے دیکھتا ہے کہ یہ اچھا خوبصورت بنا ہو ا بُت ہے۔اس کا ناک اچھا ہے، اس کی نظر بت کی صناعی پر پڑتی ہے لیکن اسے یہ خیال نہیں آتا کہ یہ بت مجھے کچھ دے دے گا یا مجھ سے کچھ لے لے گا۔اسی قسم کا ایک واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہے۔حضرت ابراہیم کے چا کی بتوں کی دکان تھی اور ان کے چچا کے نوجوان بیٹے دُکان پر کام کرتے تھے۔آپ کے چچانے آپ کو بھی دکان کا کام سکھانے کے لئے ان کے ساتھ بٹھا دیا۔ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام دکان پر بیٹھے تھے کہ ایک توے پچانوے سال کا بڑھا سفید لمبی داڑھی، بت خریدنے کے لئے آیا۔جو بت اسے پسند آیا اُس نے اس بت کے سامنے ماتھا رکھ دیا اور اس کے سامنے ہاتھ جوڑے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے اس طرح کرتے دیکھ کر قہقہہ مارا۔اور اس بڑھے کو کہا کہ کل ایک نوجوان سنگتراش یہ بت دے کر گیا ہے اور تم اتنے بڑھے ہو کر اس بت کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہو۔