خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 282

*1946 282 خطبات محمود ایک دن اس سے کسی نے پوچھا کہ تم نماز کیوں پڑھتے ہو ؟ اس نے کہا میں نماز اس لئے پڑھتا ہوں کہ سجدہ میں ہوا اچھی طرح خارج ہو جاتی ہے۔جس طرح اس شخص نے ایک اچھا لفظ اپنے لئے اختیار کر لیا تھا کہ میں نماز پڑھتا ہوں لیکن دراصل اس کا مقصد نماز سے تمسخر اور استہز ا تھا۔اسی طرح عام طور پر غور کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے مگر اس کے معنے غور کے نہیں ہوتے بلکہ اس کے معنے سستی اور غفلت، بے توجہی اور عدم اعتنائی کے ہوتے ہیں۔لیکن لفظ غور و فکر کا استعمال کیا جاتا ہے تا سننے والے سمجھیں کہ یہ لوگ بڑے نیک ہیں، بڑا غور اور فکر کرتے ہیں حالانکہ اس کے اصل معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ کوئی کام نہیں کر رہے۔امام ابو حنیفہ ایک دفعہ بازار میں سے گزر رہے تھے کہ کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ کو بھی کسی نے ایسی نصیحت کی ہے جس سے آپ کو فائدہ ہوا ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں ایسی نصیحت کی کہ ساری عمر مجھے وہ نصیحت نہیں بھول سکتی۔لوگوں نے پوچھا وہ کیا نصیحت تھی۔جس نے آپ کو فائدہ دیا؟ انہوں نے فرمایا میں ایک دفعہ بازار میں سے گزر رہا تھا، بارش ہو رہی تھی کہ ایک بارہ تیرہ سال کا لڑکا دوڑتا ہوا میرے پاس سے گزرا۔میں نے اسے کہا بچے! ذرا آرام سے چلو اگر پھسل گئے تو چوٹ لگے گی۔میری یہ بات سن کر وہ بچہ کھڑا ہو گیا۔اس نے میری طرف دیکھا اور مجھے پہچان کر کہا۔حضور ! آپ آرام سے چلئے۔میں پھسل گیا تو کوئی بڑی بات نہیں ایک معمولی لڑکا ہوں پھسلا تو ہڈی پسلی ٹوٹ جائے گی۔لیکن اگر آپ پھسلے تو ساری اُمت پھسل جائے گی اُس کا مطلب یہ تھا کہ آپ احتیاط سے فتویٰ دیا کریں۔اگر آپ کوئی علمی غلطی کر بیٹھے تو لاکھوں آدمیوں کو نقصان پہنچ جائے گا۔وہ دن گیا اور آج کا دن آیا اُس بچہ کی یہ بات مجھے آج تک نہیں بھولی کہ امام صاحب ! آپ احتیاط سے چلیں، آپ پھلے تو ساری امت ، پھسل جائے گی۔ہماری جماعت کے افراد کو بھی یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے دین کی محافظ ہے۔اگر ہم پھسلے تو عالم اسلام کی تمام عمارت پھسل جائے گی، آسمان پھسل جائے گا، زمین پھسل جائے گی اور ہم خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی اس کو تاہی کے ذمہ دار ہوں گے۔اس لئے ہماری جماعت کے دوستوں کو سستی اور غفلت سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔خصوصاً کار کنوں کو