خطبات محمود (جلد 27) — Page 225
خطبات محمود 225 *1946 انٹرنس(Entrance) پاس نوجوان بھی وہاں کام دے سکتے ہیں، گریجوایٹوں اور ایم اے پاس لوگوں کی ضرورت نہیں۔کچھ مولوی فاضلوں کی بے شک ضرورت ہے لیکن زیادہ مولوی فاضلوں کی نہیں۔ہر علاقہ میں اگر دو دو تین تین مولوی فاضل ہو جائیں تو کافی ہیں۔باقی سب جگہوں میں معمولی عربی پڑھے ہوئے نوجوان بھی کام دے سکتے ہیں اور انٹرنس پاس بھی کام دے سکتے ہیں۔بہر حال میں سمجھتا ہوں قریب ترین عرصہ یعنی دو تین سال میں ہی ہمیں ڈیڑھ دو سو آدمی وہاں رکھنے پڑیں گے۔اس وقت بارہ کے قریب مبلغ وہاں پہنچ چکے ہیں۔ایک گریجوایٹ کو ولایت میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسے افریقہ بھیجوا دیا جائے گا جہاں وہ سینئر کیمبرج سکول یا میٹرک سکول قائم کرے گا اور یہ سکول گولڈ کوسٹ کے علاقہ میں قائم کیا جائے گا کیونکہ ہماری سب سے زیادہ جماعت اس جگہ ہے۔مگر یہاں پھر وہی آدمیوں کا سوال آجاتا ہے اور ایک ایک قدم پر یہ سوال ہمارے سامنے آئے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ روپیہ کا سوال بھی ہمارے سامنے آتا ہے مگر روپیہ کا سوال ایک ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔اگر سچا اخلاص اور دین کا حقیقی جوش رکھنے والے لوگ موجود ہوں تو روپیہ کا سوال خود بخود حل ہو جاتا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کو آخر کون خرچ دیا کرتا تھا؟ آپ نے ان سے یہی کہا کہ جاؤ تبلیغ کرو اور جب بھوک لگے تو لوگوں سے مانگ کر کھالیا کر و۔بدھ نے بھی اپنے پیروؤں کو یہی تعلیم دی کہ کشکول اٹھاؤ، خدا تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچاؤ اور جب کھانے کا وقت آئے تو لوگوں سے اپنے لئے کھانا مانگو اور کھاؤ۔تم ان کا کام کرتے ہو۔کیا ان کا فرض نہیں کہ وہ تمہاری ضرورت کو پورا کریں اور تم کو کھانا کھلائیں؟ پس حقیقت یہ ہے کہ جب اخلاص سے کام لیا جائے تو روپیہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔اصل سوال آدمیوں کا ہے۔روپیہ ایک تابع چیز ہے اگر مل جائے تو اس سے اپنے کام کو وسیع کیا جاسکتا ہے لیکن اگر روپیہ پاس نہ ہو تو اس کے یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ تبلیغ کو بند کر دیا جائے کیونکہ تبلیغ روپیہ کی محتاج نہیں۔تبلیغ کے لئے ایمان اور اخلاص کی ضرورت ہے۔اگر روپیہ ہو گا تو ہم اپنے مبلغوں کو روپیہ دے دیں گے اور اگر روپیہ ہمارے پاس نہیں ہو گا تو حضرت مسیح کی طرح ہم انہیں یہی کہیں گے کہ جاؤ اور لوگوں کو خد اتعالیٰ کی بادشاہت کی خبر دو۔اور جب تمہیں بھوک لگے تو لوگوں سے روٹی مانگو