خطبات محمود (جلد 27) — Page 204
*1946 204 خطبات محمود اس جماعت کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ ہم سے مبلغ مانگے۔مگر آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا چلا جائے گا۔کب تک ہم جماعت کو بیدار کرتے جائیں گے اور وہ خاموش بیٹھی رہے گی۔یہ مثال تو وہی ہو گئی ہے جیسے غالب نے کہا کہ۔ہم کہیں گے حالِ دل اور آپ فرمائیں گے کیا ایک شخص حالِ دل سنائے چلا جاتا ہے اور دوسرا کہتا ہے کیا کہا؟ وہ پھر اپنا حال سنانا شروع کر دیتا ہے اور آدھ گھنٹہ ضائع کر دیتا ہے مگر دوسرا اس آدھ گھنٹہ میں بھی اِدھر اُدھر متوجہ رہتا ہے اور جب وہ خاموش ہوتا ہے تو کہتا ہے اچھا آپ نے کیا کہا؟ یہ کوئی ایسی بات نہیں جسے ہماری جماعت کے لوگ سمجھ نہ سکتے ہوں کہ اگر تم اپنے بیٹوں کو مدرسہ احمدیہ میں نہیں بھیجتے تو تمہیں سلسلہ کی طرف سے مبلغ بھی نہیں مل سکتے۔تمہارے ہی بیٹے ہیں جو مبلغ بن سکتے ہیں۔عیسائیوں کے بیٹے اسلام کے مبلغ نہیں بن سکتے ، ہندوؤں کے بیٹے اسلام کے مبلغ نہیں بن سکتے، سکھوں کے بیٹے اسلام کے مبلغ نہیں بن سکتے۔اور اگر تمہارے بیٹے بھی دنیوی کاموں کے لئے وقف رہیں گے تو پھر اسلام کا خانہ بالکل خالی ہے۔پھر ہم سے مبلغ بھی مت مانگو بلکہ کہو کہ دین کا دروازہ ہم نے اپنے اوپر بند کر لیا ہے۔یہ کیوں کہتے ہو کہ مبلغ دو، مبلغ دو۔یہ چیز اتنی انتہاء درجہ خلاف عقل ہے کہ میں حیران ہوں وہ کونسا ذریعہ ہے جس سے میں جماعت کو سمجھاؤں۔سوتے کو جگانا آسان ہوتا ہے لیکن جاگتے ہوئے کو جگانانا ممکن ہوتا ہے۔اگر تم واقع میں سوئے ہوئے ہوتے تو میرے وعظ اور نصیحت سے کبھی کے جاگ چکے ہوتے لیکن تم تو جاگتے ہوئے مچلے بن رہے ہو۔اب میرے پاس کونسا ذریعہ ہے جس سے میں مچلے کو جگا سکوں۔مچلے کو جگانے کی کسی انسان میں طاقت نہیں ہوتی بلکہ مجلے کو تو خدا بھی نہیں جگاتا۔آخر خدا تعالیٰ نے ابو بکر کو ہدایت دی، ابو جہل کو نہیں دی۔عمر کو ہدایت دی، عتبہ کو نہیں دی۔عثمان کو ہدایت دی ، شیبہ کو نہیں دی۔علی کو ہدایت دی، ولید کو نہیں دی۔جب تک تم میں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ دین کی بھی کوئی قیمت ہے، جب تک تمہارے نزدیک خدا تعالیٰ کے کلام کے معنے کرنے کی کوئی قیمت نہیں۔لیکن اگر تمہارا بیٹا چاندی کا چمکتا ہوا روپیہ تمہارے پاس لے آئے تو تم خوش ہوتے ہو اور سمجھتے ہو کہ یہ حقیقی چیز ہے جو ہمارے بیٹے نے کمائی ہے