خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 143

*1946 143 خطبات محمود آپ کو کیا گلہ ہے ؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔اور افسر نے رجسٹر پیش کر کے کہا کہ ہماری بات بھی سن لی جائے۔انہوں نے کہا ہے کہ کپاس پر ہم نے ان کی سب کپاس قرض میں وصول کر لی اور ان کے پاس کچھ نہ رہا۔یہ رجسٹر ہے اس میں دیکھ لیں کہ ان کی کپاس کی قیمت 280 روپیہ ہوتی ہے۔یہ رقم سابق قرض میں ہم نے ان سے وصولی کر لی لیکن وصولی کے تیسرے چوتھے دن یہ آکر پھر تین سو روپیہ قرض لے گئے۔گویا عملاً انہوں نے کپاس پر قرض واپس نہیں کیا بلکہ بیس روپے اور قرض لے گئے۔میں نے شکایت کنندہ سے پوچھا کیا یہ ٹھیک ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں یہ ٹھیک ہے۔اس کے بعد افسر نے کہا باقی رہی گندم سو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے 32 من گندم ان سے لے لی گو جیسا کہ آپ نے خود کہا ہے کہ پھر بھی ان کے پاس کافی گندم موجود تھی مگر اس کے علاوہ یہ حقیقت ہے کہ چند دن بعد ہی یہ بیس من گندم پھر قرض لے گئے کہ میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں اور چھ سات سو روپیہ جو انہوں نے قرض لیا تھا اس کے مقابل پر ان کی دونوں فصلوں میں سے صرف 12 من گندم وصول ہوئی یعنی کوئی سو روپیہ۔اس کی بھی شکایت کنندہ نے کھسیانے ہو کر تصدیق کی۔اس پر میں نے ان سے کہا کہ آپ کا مطلب یہ ہوا کہ آپ سلسلہ سے قرض لیتے جائیں اور وصولی آپ سے بالکل نہ کی جائے۔مگر باوجود اس کے شکایت آپ کو یہ ہے کہ کپاس بھی لے لی اور گندم بھی لے لی۔حالانکہ واقع یہ ہے کہ کپاس کے موقع پر آپ نے کپاس کی قیمت سے زیادہ روپیہ لیا اور گندم کے موقع پر صرف ساتواں حصہ گندم کا قرض میں دیا۔اب دیکھو! یہ احمدی میرے پاس مینیجر صاحب کے ظلم و تعدی کی ایک کہانی بنا کر لایا۔لیکن حقیقت اس کے بالکل بر عکس نکلی۔کسی انسان کے ساتھ ہمدردی تو اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب سننے والے کو یقین ہو کہ وہ شخص سچ بولنے والا ہے اور واقع میں اس وقت کسی مصیبت میں مبتلا ہے۔لیکن جب ایک آدمی کی ہر بات میں جھوٹ پایا جائے تو کسی کے دل میں اس کے لئے ہمدردی پیدا نہیں ہو سکتی۔جب بھی وہ کوئی بات بیان کرے گا، سننے والا کہے گا۔لگا ہے مجھے دھوکا دینے۔ایسے حالات پیدا کر کے وہ شخص خود اپنے آپ کو اس قابل بنالیتا ہے کہ اس سے ہمدردی نہ کی جائے۔ہمارے ملک میں ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک لڑکا جنگل میں جانور چرانے جایا کرتا