خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 142

*1946 142 خطبات محمود تعلق نہیں بیان کرتا چلا جائے گا تاکہ قاضی کا دماغ پر اگندہ ہو جائے اور وہ اصل بات تک نہ پہنچ سکے۔جب پوچھا جائے کہ فلاں شخص فلاں جگہ گیا تھا؟ تو بجائے اس کے کہ جواب میں یہ کہا جائے کہ ہاں گیا تھایا نہیں گیا تھا۔وہ اپنے دوست کو بچانے کے لئے لمبی کہانی شروع کر دے گا کہ اصل بات یوں ہے اور پانچ سات منٹ تک ایک بے معنی کہانی سناتا چلا جائے گا تا کہ پانچ سات منٹ میں سننے والے کا دماغ پر اگندہ ہو جائے اور اسے اصل بات بھول جائے۔حالانکہ مومن کا یہ شیوہ ہو تا ہے کہ جب اس سے کوئی بات پوچھی جائے تو وہ سیدھا سادہ جواب دیتا ہے اور حق پوشی اور دروغ گوئی کے قریب بھی نہیں جاتا۔میں ہر سال جب یہاں آتا ہوں تو یہاں کے لوگوں کو اپنے سوالات پیش کرنے کا موقع دیتا ہوں لیکن میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ محض جھوٹی باتیں پیش کرتے ہیں۔اسی سال محمد آباد کے ایک شخص نے میرے سامنے یہ بات پیش کی کہ مینیجر صاحب نے کپاس کے موقع پر سب فصل کپاس قرض میں لے لی اور پھر گندم کے موقع پر گندم بھی قرض میں وصول کر لی۔ایسا انتظام کیا جائے کہ گندم تو ہمارے کھانے کے لئے رہنے دی جائے۔میں نے اسے کہا یہ بات تو بالبداہت باطل ہے۔اگر تمہارا قرضہ ختم ہو چکا ہے۔تو کوئی وجہ نہیں کہ مینیجر صاحب تم سے قرضہ کا مطالبہ کریں۔یہ بات پیش کرنے والا ایک پنجابی احمدی مزارع تھا۔میں نے اسے کہا کہ آخر آپ اتنا قرض کیوں لیتے ہیں جو واپس نہ ہو سکے ؟ یہ سلسلہ کا مال ہے اور اس کے نمائندوں کا فرض ہے کہ قرض وصول کریں۔اگر آپ اپنی پیداوار سے زیادہ قرض لیں گے تو لازماً پیداوار بھی جائے گی اور قرض بھی سر پر کھڑا رہے گا۔آپ یہ بتائیں کہ کیا جب کپاس مینجر نے وصول کی تو آپ کے ذمہ کوئی قرض نہ تھا۔اگر تھا تو یہ لازمی بات ہے کہ اس قرض کو مینیجر گندم کے موقع پر وصول کرنے کی کوشش کرے گا۔ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ کے کھانے کے برابر گندم آپ کے پاس چھوڑ دینی چاہئے تھی۔بتلائیے آپ کی گندم کتنی ہوئی تھی؟ کتنے آپ کے افراد ہیں اور کتنی مینیجر نے وصول کی؟ انہوں نے بتایا کہ 81 من گندم تھی۔تین افراد گھر کے ہیں۔32 من مینیجر نے وصول کی اور 49 من چھوڑ دی۔میں نے کہا آپ کے گھر کا خرچ زیادہ سے زیادہ تیں من ہو گا اور چھوڑی 49 من ہے۔پھر