خطبات محمود (جلد 27) — Page 131
*1946 131 خطبات محمود صحابہ فوت ہوئے۔ناصر آباد کے پاس ایک گاؤں ہے جس کا نام دیہہ صحابو 1 ہے یعنی صحابی کا گاؤں۔وہاں ایک صحابی کی قبر بھی ہے اور عین میری زمین میں ہے۔اسی طرح بمبئی کے پاس ایک جگہ تھا نہ ہے وہاں بھی صحابہ کی قبریں بیان کی جاتی ہیں۔اہل عرب میں تبلیغ کرنے کا سب سے اچھا رستہ سندھ ہے۔ہم پنجاب سے عرب میں تبلیغ نہیں کر سکتے۔ہم بنگال سے بھی عرب میں تبلیغ نہیں کر سکتے۔ہم یو۔پی سے بھی عرب میں تبلیغ نہیں کر سکتے۔ہم افغانستان سے بھی عرب میں تبلیغ نہیں کر سکتے۔اگر ہم عرب میں تبلیغ کر سکتے ہیں تو سندھ کے رستے سے ہی کر سکتے ہیں کیونکہ ہندوستان کی تمام تجارت عرب سے سندھ کے ذریعہ ہوتی ہے۔عرب کی کھجوریں، چٹائیاں، رسیاں اور اسی قسم کی دوسری چیزیں کراچی آکر اترتی ہیں۔کراچی سے غلہ، کھانڈ اور باقی اشیاء تجارت عرب کو جاتی ہیں۔یہ تجارت زیادہ تر کشتیوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔عربوں کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے جہالت کے زمانہ میں آکر ہم کو ظلمت سے نکالا، ہمیں اللہ تعالیٰ سے ملایا، رسول کریم صلی ال نیم سے روشناس کرایا۔یہ ان کی اتنی بڑی نیکی ہے کہ جس کا کسی طرح بدلہ نہیں دیا جاسکتا۔اور اب جبکہ عرب خدا تعالیٰ سے دور جاچکے ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ سے ملائیں۔اور عربوں کو تبلیغ کرنے کا سب سے اچھا ذریعہ یہی ہے کہ ہم سندھیوں کو احمدی بنائیں۔اگر سندھی لوگ کثرت سے احمدی ہو جائیں تو ہماری آواز بہت ہی آسانی کے ساتھ عربی ممالک میں پہنچ سکتی ہے کیونکہ عرب کا اور سندھ کا سمندر ملا ہوا ہے۔عرب سے سندھ کو اور سندھ سے عرب کو کثرت سے کشتیاں آتی جاتی رہتی ہیں۔اگر کشتیاں چلانے والے یا کشتیوں کے مالک احمدی ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ عربی ممالک میں احمدیت کی آواز نہ پہنچے۔اگر ہم کشتیوں کی تجارت پر قابض ہو جائیں تو ہم بہت موئثر پیرائے میں عرب میں تبلیغ کر سکتے ہیں خواہ عربی ممالک میں ہمارے مبلغوں کو داخلہ کی اجازت نہ بھی ہو۔کیونکہ دوسرے رستوں سے تو ہمارے مبلغوں کو حکومت روک سکتی ہے لیکن تجار کے رنگ میں کام کرنے والوں کو حکومت کس طرح روک سکتی ہے۔اگر حکومت ان کشتیوں کی آمد و رفت روک دے تو اسے وہ چیزیں نہ مل سکیں گی جو ان کو ہندوستان سے پہنچتی ہیں اور حکومت مجبور ہو گی کہ ان کشتیوں کو اپنے ساحل پر آنے دے۔