خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 104

*1946 104 خطبات محمود اور ان کے بچوں کو روٹی ملتی ہے اور وہ بھی دو وقت کی نہیں۔کبھی ایک وقت کی ملتی ہے اور کبھی دو وقت کی۔اب بتائیں جس کو سارا دن کام کرنے کے بعد پیٹ بھر کر کھانے کے لئے روٹی بھی نہ ملے اس کو کپڑا کہاں سے ملے گا؟ جس بیچارے کے پاس صرف ایک تہہ بند ہے اس کے پاس ہمت کہاں کہ وہ کپڑوں کو صاف رکھے ؟ وہ تو کام سے تھک کر اور چور ہو کر لیٹتا ہے اور اسے چار بجے تک ہوش ہی نہیں آتا۔چار بجے اٹھتے ہی وہ پھر باہر چلا جاتا ہے۔کبھی آپ نے اس کا بھی خیال کیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ٹھیک ہے۔پھر انہوں نے کہا۔یہاں کی گورنمنٹ مجھے بوجہ ساؤتھ افریقین ہونے کے ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دیتی۔میں بھی چاہتا ہوں کہ وہیں اپنے وطن میں رہوں اور سلسلہ کی تبلیغ کروں۔میں نے کہا کیا کسی طرح ہم اپنا مبلغ وہاں بھیج سکتے ہیں۔انہوں نے کہا ہاں۔وہاں انہیں استاد کر کے بھیج سکتے ہیں ؟ میں کہوں گا کہ مجھے اپنے لئے دین کے استاد کی ضرورت ہے اس طرح وہ میرے استاد بن کر جاسکتے ہیں۔میں نے کہا کہ آپ جائیں اور استاد کے لئے درخواست دے دیں۔اجازت ملنے پر ہم وہاں اپنا مبلغ انشاء اللہ بھیج دیں گے۔انہوں نے کہا کہ میری جائداد کافی ہے وہ مبلغ ہمارے مکانات میں رہے گا اور اس کے سارے اخراجات بھی وہیں سے چل جائیں گے۔یہاں سے کسی قسم کی ضرورت نہ ہو گی۔اور تبلیغ کے لئے وہاں انشاء اللہ اچھا موقع نکل آئے گا۔انہوں نے بتایا کہ ساؤتھ افریقہ میں اچھی حیثیت والے جاوا کے لوگ ہیں جو کسی وقت جاوا سے جلاوطن کئے گئے تھے۔ان کے حقوق ہندوستانیوں سے زیادہ ہیں۔اس پر میں نے تجویز کی کہ ہو سکا تو ہم ایک جاوی احمدی کو مبلغ بنا کر بھجوائیں گے جسے انہوں نے پسند کیا۔پرسوں پھر میں نے ان سے ذکر کیا کہ کیا آپ وہاں پر پریکٹس کریں گے یا کوئی اور کام کریں گے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں اپنی زندگی تبلیغ کے لئے صرف کروں گا۔کھانے کی مجھے فکر نہیں، کھانے کے لئے خدا تعالیٰ نے کافی دیا ہوا ہے۔ہاں غریبوں کے لئے مفت پریکٹس کروں گا اور اپنی قوم میں احمدیت کو پھیلانے کے لئے تبلیغ میں لگ جاؤں گا اور یہ مفت پریکٹس بھی تبلیغ میں مد ثابت ہو گی۔ایک تو میں خود مبلغ ہوں گا اور دوسرے مبلغ کو بھی وہاں منگوانے کی کوشش کروں گا اور مجھے امید ہے کر انشاء الله اجازت مل جائے گی جیسا کہ پادریوں کو ملتی ہے۔کوئی وجہ نہیں کہ ان کو بلانے