خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 105

$1946 105 خطبات محمود کی اجازت ہو اور ہمیں نہ ہو۔پھر مجھ سے انہوں نے کہا کہ میں خود بھی بخوبی تبلیغ کر سکتا ہوں لیکن چونکہ میں نے یہاں سے مکمل تعلیم حاصل نہیں کی اور میرے دماغ پر بائیبل چھائی ہوئی ہے اور میں نے اپنی ساری عمر انگریزوں کے ساتھ ہی بسر کی ہے اس لئے ڈر تاہوں کہ ایسانہ ہو کہ کوئی بات ایسی میرے منہ سے نکل جائے جو احمدیت کے خلاف ہو اور پھر اس کو بعد میں مٹانا مشکل ہو جائے اور لوگ کہیں کہ پہلے مبلغ نے ہمیں یہ بات سکھائی تھی اب اس کے خلاف کیوں کہتے ہو۔اس لئے مناسب ہے کہ ایک مبلغ ہو جو ان لوگوں کو صحیح تعلیم پہنچائے۔میں اس کی ہر طرح مدد کروں گا اور پھر اس کے ذریعہ مجھے بھی علم حاصل ہو جائے گا۔اب دیکھو یہ خدائی سامان ہیں۔نہ ارادہ نہ خیال، مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ آرہے ہیں۔اچانک ان کا یہاں آنا معلوم ہوا اور اچانک خدا تعالیٰ کی طرف سے ساؤتھ افریقہ میں تبلیغ احمدیت کے سامان پیدا ہو گئے۔اسی طرح اب ایک دوست کا امریکہ سے خط آیا ہے۔وہ ایک م نوجوان ہے۔اس خط میں اس نے ایک سکیم لکھی ہے۔اگر اس کو ہم جاری کر سکے تو ہمارے مبلغین کا امریکہ پہنچنا بہت آسان ہو جائے گا اور ان کا وہاں کا خرچ بھی ہمارے ذمہ نہ ہو گا۔اگر اس سکیم کے متعلق ہماری ہر طرح تسلی ہو گئی تو ہم اس کو جاری کرنے کا جلد انشاء اللہ انتظام کریں گے۔غرض اللہ تعالیٰ غیب سے ہمارے لئے ترقی کے سامان پیدا کر رہا ہے۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ جوش کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کاموں میں لگ جائیں۔ہمارے مبلغوں کے لئے زیادہ سے زیادہ جگہیں اور زیادہ سے زیادہ مقامات اپنی گودیں کھولتے جارہے ہیں اور ہمارا کام دن رات بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ان تمام مقامات کے لئے مبلغ مہیا کر نا ہمارا کام ہے کیونکہ فی الحال بیرونی ممالک کے لوگ مبلغ تیار نہیں کر سکتے۔مبلغ کے لئے تمام دینی علوم کا جاننا اور اپنی جماعت کے تمام مسائل سے آگاہ ہوناضروری ہے اور یہ بات فی الحال باہر کسی جگہ پیدا نہیں ہوئی۔پس ابھی سو یا دو سو سال تک قادیان سے ہی مبلغ باہر بھیجے جائیں گے۔پھر جب احمدیت بیرونی ممالک میں کثرت کے ساتھ پھیل جائے گی اور احمدیت کو اللہ تعالیٰ غلبہ دے دے گا تو باہر والے بھی مبلغ تیار کر لیں گے۔جب تک وہ زمانہ نہیں آتا ہمیں اپنے بچے اشاعت دین کے لئے قربان کرنے ہوں گے۔آخر اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر کوئی قربانی کی