خطبات محمود (جلد 27) — Page 94
*1946 94 خطبات محمود کوئی فیصلہ کرے یا ساری جماعت کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرے تو اس فیصلہ کی سارے کے سارے پیروی کریں اور ان میں سے کوئی ایک بھی اس کے خلاف نہ جائے اور ان چیزوں کو جو دنیوی ہیں جماعتی نظام کے توڑنے کا موجب نہ بنائے۔ورنہ یہ ایسی ہی بات ہو گی جیسے کوئی شخص مکھی کی خاطر اپنا گھوڑا مار ڈالے۔ایک طرف دین ہے اور دوسری طرف دنیا ہے۔کیا وجہ ہے کہ دنیا کے لئے اتنے جھگڑے ہوں کہ دین پر اس کا خطرناک اثر پڑے ایسی صورت میں تو ایک دنیوی کام کو نہ کرناہی اچھا ہے جس سے دین میں تفرقہ پیدا ہو تا ہو۔مثلاً جب جھگڑا پید اہو گیا تھا تو گوجرانوالہ کے لوگ ووٹ ہی نہ دیتے۔اگر گوجرانوالہ کی جماعت ہوشیار ہوتی تو یہ فیصلہ کرتی کہ چلو ہم گھر میں بیٹھ جاتے ہیں آپس میں کیوں لڑائی کریں، ہمیں کوئی قانون مجبور نہیں وہ کرتا کہ ووٹ دیں۔پس ضروری ہے کہ جماعت کے اندر ایسا اخلاص پیدا کیا جائے کہ مداہنت کا رنگ اختیار نہ کرے۔ظاہر تو یہ کیا جائے کہ ہم سلسلہ کی فرمانبر داری اور اسلام کی خیر خواہی کر رہے ہیں اور سلسلہ کو فائدہ پہنچارہے ہیں لیکن در حقیقت ذاتی تعلقات ان کو ایک فیصلہ پر ابھار رہے ہوں۔(3) احرار کو ووٹ کیوں دیئے : تیسری بات جس کا بہت کچھ چر چارہا ہے اور جس کی وجہ سے جماعت کے لوگوں کے دلوں میں بھی ایک خلش پید اہو رہی ہے اس کے متعلق بھی میں کچھ بیان کرنا چاہتاہوں اور وہ یہ کہ ڈسکہ کے علاقہ میں جماعت نے احرار کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔اس فیصلہ کی وجہ سے دو قسم کی خلش پیدا ہو رہی ہے۔ایک یہ کہ احرار کو ووٹ کیوں دیا جبکہ وہ ہم کو گالیاں دینے والے ہیں۔دوسرے یہ کہا جاتا ہے کہ احرار کی طرف سے یہ پروپیگنڈا کیا گیا ہے کہ احمدیوں نے جھوٹ بولا ہے ہم نے ان سے قطعاً کوئی مدد نہیں مانگی۔انہوں نے ہمیں بد نام کرنے کے لئے ہمیں ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔چنانچہ پرسوں سرحد سے ایک خط آیا جس میں لکھا تھا کہ اشتہارات کے ذریعہ اور لیکچروں کے ذریعہ یہ کہا گیا ہے کہ احمد یہ جماعت جو کہتی ہے کہ ہم نے احراریوں کو مدد دی ہے یہ بالکل غلط ہے۔نہ انہوں نے ہمیں مدد دی ہے اور نہ ہم نے ان سے مدد طلب کی ہے وہ جھوٹ بولتے ہیں۔اس معاملے میں اس وقت تک میری زبان بند تھی کیونکہ میں ایک معاہدہ کی رو سے اس کا پابند تھا کہ الیکشن تک اس بات کو