خطبات محمود (جلد 27) — Page 669
*1946 669 خطبات محمود وہ بیس کروڑ روپیہ سالانہ دے دیتا ہے۔اس کے لئے یہ مشکل نہیں۔لیکن ہماری غرباء کی جماعت ہے اور ہماری جماعت کے افراد اپنے نفسوں پر بوجھ ڈال کر بچا بچا کر خدمتِ دین کے لئے دیتے ہیں اس لئے ان کی قربانیاں دو کروڑ سالانہ دینے والے سے زیادہ ہیں۔پس جماعت کے مال کے بڑھانے کے دو ہی طریق ہیں۔اول یہ کہ جماعت کے افراد تعداد میں بڑھتے جائیں اور دوسرے یہ کہ جماعت کے اموال اور جائیدادیں بڑھیں۔پھر ہی جماعتی فنڈ زیادہ مضبوط ہوتا جائے گا۔جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی غیر معین بات بیان کی جائے تو اکثر اُس کے تمام پہلو مراد ہوتے ہیں۔گو بعض اوقات اُس کے مخصوص پہلو ہی مراد ہوتے ہیں۔لیکن اکثر یہی ہوتا ہے کہ تمام پہلو مراد ہوتے ہیں۔اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اس پیشگوئی کے بھی سارے ہی پہلو مراد ہیں۔اور اس پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت کے مالوں کو بے انتہا بڑھائے گا اور جماعت کے افراد میں دن بدن ترقی دے گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کوئی بڑا آدمی جماعت میں داخل نہیں ہوگا اور حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں بھی کوئی بڑا آدمی جماعت میں داخل نہیں ہو کہ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت خلیفہ اول مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔آپ کسی خیال میں پڑ گئے اور پھر کچھ دیر کے بعد مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔انبیاء کی جماعتوں میں امراء ابتدائی حالت میں داخل نہیں ہوتے۔اس وقت بڑے آدمیوں کا درجہ ای۔اے۔سی سے شروع ہوتا ہے اور ہماری جماعت میں کوئی ای۔اے۔سی نہیں ہے۔کجا وہ حالت کہ ہماری جماعت میں کوئی ای۔اے۔سی نہ تھا اور کُجا یہ حالت ہے کہ ہماری جماعت میں بہت سے ای۔اے۔سی ہیں اور کئی حج ہیں اور بعض ڈپٹی کمشنر ہیں اور بعض اس سے بھی اوپر ہیں۔مثلاً چودھری ظفر اللہ خاں صاحب فیڈرل کورٹ کے حج ہیں اور وائسرائے کی کونسل کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔کجاوہ حالت کہ جماعت میں کوئی ای۔اے۔سی نہ تھا اور کُجا یہ حالت کہ اب ہماری جماعت میں کئی افسر ایسے ہیں جن کے ماتحت کئی ای۔اے۔سی کام کرتے ہیں اور یہ یہ سلسلہ دن بدن وسیع ہوتا جارہا ہے۔اسی طرح انجمن کی جائیداد بھی حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں پندرہ بیس ہزار روپیہ کی تھی اور اب کم سے کم ایک کروڑ روپیہ کی ہے۔یہ حالات بتاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کی پیشگوئی دن بدن پوری ہوتی جارہی ہے۔